کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد8،7) - صفحہ 191
وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّسے مراد: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ۔ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ سے مراد: حضرت علِی۔ رضی اللہ عنہ ہیں ۔ یہ تفسیر بھی اپنے سے پہلی تفاسیر کی جنس سے تعلق رکھتی ہے۔ جیسا کہ شیعہ کہتے ہیں : ۱۔﴿وَکُلَّ شَیْئٍ اَحْصَیْنٰہُ فِیْٓ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ﴾ اس سے مراد حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں ۔ ۲۔ ﴿وَاِِنَّہٗ فِیْٓ اُمِّ الْکِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَکِیْمٌ﴾ اس سے مراد حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں ۔ ۳۔ ﴿اَلشَّجْرَۃُ الْمَلْعُوْنَۃُ﴾ اس سے مراد بنو امیہ ہیں ۔ اس طرح کی دیگر من گھڑت تفسیریں اور باتیں جو کوئی بھی ایسا انسان نہیں کہہ سکتا جسے اللہ تعالیٰ کے وقار کا کچھ ذرا بھر بھی خیال ہو اور نہ ہی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والا کوئی بھی انسان ایسی بات کہہ سکتا ہے ۔ یہی حال ان لوگوں کا بھی ہے جو کہتے ہیں کہ: ﴿مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیَانِ﴾ (الرحمن:۱۹) ’’اس نے دو دریا جاری کر دیئے جو ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں ۔‘‘ اس سے حضرت علی رضی اللہ عنہ و فاطمہ مراد ہیں ۔‘‘ ﴿بَیْنَہُمَا بَرْزَخٌ لَا یَبْغِیَانِ﴾ اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ؛ اور﴿یَخْرُجُ مِنْہُمَا اللُّؤْ لُؤُ وَالْمَرْجَانُ﴾لؤلؤ اور مرجان سے حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما مراد ہیں ۔ [1]
[1] ذیل میں بلا تبصرہ شیعہ کے ہاں تحریف قرآن کی مثالیں پیش کررہے ہیں :[ابو عبداللہ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے : ] ﴿اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰواتِ وَالْاَرْضِ مَثَلَ نُوْرِہِ کَمِشْکوٰۃٍ ﴾: سے مراد فاطمۃ ’’اللہ نور ہے آسمانوں کا اور زمین کا اس کے نور کی مثال مثل ایک طاق کے ہے۔ ‘‘ یعنی فاطمہ۔ ﴿ فِیْہَا مِصْبَاحٌ﴾ أیْ : الحسن ’’جس میں چراغ ہو۔‘‘ یعنی الحسن ﴿ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَۃٍ ﴾: أَیْ الْحُسین ’’اور چراغ شیشہ کی قندیل میں ہو۔‘‘ یعنی الحسین ﴿الزُّجَاجَۃُ کَاَنَّہَا کَوْکَبٌ دُرِّیٌّ﴾: فَاطِمَۃُ کَوْکَبٌ دُرِّیٌّ بَیْنَ نِسَائِ أَہْلِ الدُّنْیَا ’’شیشہ مثل چمکتے ہوئے روشن ستارے کے ہو۔‘‘ یعنی فاطمہ اہل دنیا کی تمام خواتین کے درمیان چمکتا ہوا ستارہ ہے۔ ‘‘ ﴿ یَوْقَدُ مِنْ شَجَرَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ﴾: إبراہیم ’’ وہ چراغ ایک بابرکت درخت سے جلایا جاتا ہو۔‘‘ یعنی ابراہیم۔ ﴿ زَیْتُوْنَۃٍ لاَّ شَرْقِیَّۃٍ وَّلَا غَرْبِیَّۃٍ ﴾: لَا یَہُوْدِیَّۃٍ وَّلَا نَصْرَانِیَّۃٍ ’’زیتون کے درخت سے جو نہ مشرقی ہے اور نہ مغربی۔‘‘ یعنی وہ نہ تو یہودیت ہے اور نہ ہی نصرانیت۔ ﴿ یَکَادُ زَیْتُہَا یُضِیْئُ ﴾: یَکَادُ الْعِلْمُ یَنْفَجِرُبِہَا ’’ خود وہ تیل قریب ہے کہ آپ ہی روشنی دینے لگے ۔‘‘ یعنی قریب ہے کہ علم خود بخود ہی اس سے پھوٹنے لگے۔ ﴿وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْہُ نَارٌ نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍ﴾ إِمَامٌ مِّنْہَا بَعْدَ إِمَامٍ ’’گو اسے مطلقاً آگ لگی ہی نہ ہو نور پر نور ہے۔‘‘ یعنی ایک امام کے بعد دوسرا امام ہے ۔ ﴿ یَہْدِی اللّٰہُ لِنُوْرِہٖ مَنْ یَّشَآئُ﴾ یَہْدِی اللّٰہُ لِلْأَئِمَّۃِ مَنْ یَّشَائُ (