کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد8،7) - صفحہ 131
بھی ممکن ہے کہ جو شخص صدقہ ادا کرنے پر قادر نہ ہو اور اس کی نیت یہ ہو کہ بشرط قدرت وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات چیت کرے گا اور صدقہ دے گا تو اسے اس کی نیت کا اجر و ثواب مل جائے گا۔ جس شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی خفیہ بات کرنے کی ضرورت لاحق نہ ہو تو اسے ناقص قرارنہیں دیا جائے گا۔ البتہ جس شخص کو ایسی ضرورت لاحق ہوئی ہو مگر اس نے بخل سے کام لے کر آپ سے خفیہ بات نہ کی ہو؛ تو اس نے ایک مستحب فعل کو ترک کیا۔ خلفاء کے بارے میں ہر گز یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ بخیل تھے۔ اور یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ اصحاب ثلاثہ اس آیت کے نزول کے وقت موجود تھے۔ بلکہ اس بات کا بھی امکان ہے کہ بعض ان میں سے موجود نہ ہوں ۔یا اپنی ضرویات میں مشغول ہوں ؛ یا انھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ راز دارانہ بات کرنے کی ضرورت پیش نہ آئی ہو ۔
یہ حکم زیادہ دیر تک باقی نہیں رہا جس سے یہ معلوم ہوسکے کہ اتنے لمبے عرصہ میں لازمی طور پر لوگوں کو سر گوشی کرنے کی ضرورت پیش آئی ہو۔ اور اگر فرض کر لیا جائے کہ اصحاب ثلاثہ رضی اللہ عنہم نے ایک مستحب فعل کو ترک کردیاتھا؛ تو ہم اس سے پہلے کئی بار بیان کرچکے ہیں کہ مستحب پر عمل کرنے والا علی الاطلاق دوسروں سے افضل نہیں ہوسکتا۔[1]
[1] یہ حکم صرف چند یوم یا صرف ایک ساعت جاری رہا اس کے بعد منسوخ ہوگیا۔علامہ نسفی کہتے ہیں : قیل کان ذلک عشر لیال ثم نسخ وقیل ماکان الا ساع من نہار ثم نسخ[مدارک ج 4 ص 178 ۔] اس دوران میں صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی کو اس آیت پر عمل کرنے کا موقع ملا۔ قبل اس کے کہ کوئی دوسرا آدمی اس پر عمل کرے اس آیت کا حکم منسوخ ہوگیا (ابن کثیر، مدارک وغیرہما) حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ حکم صدقہ کے بعد منافقین، آنحضرت( صلی اللہ علیہ وسلم )کے ساتھ بے مقصد سرگوشیاں کرنے سے رک گئے تھے اس لیے مسلمانوں پر آسانی کے لیے اس حکم کو اٹھا لیا۔ کیونکہ اب منافقین، حسب سابق سرگوشیاں کرنے سے شرماتے تھے کہ حکم صدقہ کے دوران مشورے نہیں کرتے تھے، لہٰذا اب بھی نہ کریں ۔
ابن ابی حاتم کی روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب یہ آیت نازل ہوئی تو بہت لوگ رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم )سے بات کرنے سے رک گئے اور (مسائل) دریافت کرنے سے باز رہے۔ بغوی نے لکھا ہے لوگ حضور اقدس( صلی اللہ علیہ وسلم )سے گفتگو سے رک گئے تنگدست تو اپنی ناداری کی وجہ سے حضور( صلی اللہ علیہ وسلم )سے گفتگو کرنے سے معذور ہوگئے اور مالدار لوگ اپنی کنجوسی کی وجہ سے محروم ہوگئے۔ صحابہ رضی اللہ عنہ پر یہ محرومی بڑاں گراں گزری اس کے بعد (بغیر کچھ خیرات کیے) رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )سے مسائل پوچھنے کی اجازت ہوگئی۔
مجاہد نے کہا : جب رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم )سے بات کرنے سے پہلے کچھ خیرات کرنے کا حکم نازل ہوا تو سوائے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کسی نے رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم )سے کوئی سوال نہیں کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ہی سب سے پہلے ایک دینار خیرات کر کے حضور( صلی اللہ علیہ وسلم )والا سے بات کی۔ پھر آیت اجازت نازل ہوئی اسی بنیاد پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ کتاب اللہ میں ایک ایسی آیت ہے کہ اس پر مجھ سے پہلے کسی نے عمل نہیں کیا اور نہ میرے بعد کوئی کرے گا یہ آیت مناجات :﴿ إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ﴾ ہے۔ ابن ابی شیبہ نے مصنف میں اور حاکم نے مستدرک میں بیان کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کتاب الہی میں ایک آیت ایسی ہے کہ اس پر میرے سوا کسی نے عمل نہیں کیا۔ میرے پاس ایک دینار تھا اس کو بھنایا(یعنی ایک دینار کے چھوٹے سکے لیے) جب میں رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم )سے کوئی کلام کرتا تو(پہلے) ایک درہم خیرات کردیا کرتا تھا۔