کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد8،7) - صفحہ 111
شاکی رہتی اور انہوں نے حضرت کی شان میں سخت و سست الفاظ کہے تھے اور آپ سے بر سر ِپیکار رہتے تھے[1]۔ جبکہ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے بغض رکھنے والے اور ان پر سبُّ و شتم کرنے والے صرف رافضہ؛نصیریہ اور غالیہ اسماعیلیہ ہیں اور یہ بات بھی معلوم شدہ ہے کہ جو لوگ ان دو حضرات سے محبت رکھتے تھے وہ بغض رکھنے والوں کی نسبت افضل اور تعداد میں اکثر تھے۔ جو لوگ ان سے بغض رکھتے تھے وہ اسلام سے بہت زیادہ دور اور تعداد میں بہت ہی کم تھے۔ بخلاف حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ؛ جنہوں نے آپ سے جنگ کی اور آپ سے ناراض ہوگئے تھے ؛ وہ حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما سے بغض رکھنے والوں کی نسبت بہت ہی افضل تھے۔ بلکہ وہ شیعان عثمان رضی اللہ عنہ جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتے ہیں اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے محبت کرتے ہیں وہ بھی ظالم اور بدعتی ہونے کے باوجود ان سے افضل ہیں ۔ پس وہ شیعان علی رضی اللہ عنہ جو حضرت سے محبت رکھتے ہیں ‘ اورجناب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتے ہیں ؛ وہ علم و دین میں کم تر اور ظلم و جہالت میں بڑھے ہوئے ہیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اہل ایمان کے دل میں اﷲتعالیٰ نے حضرت ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم کی جو محبت پیدا کردی تھی؛ دوسروں کو یہ مرتبہ حاصل نہیں ہوسکا۔ اگر یہ کہا جائے کہ : ’’حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے رب اور نبی ہونے کا دعوی بھی کیا گیا ہے ۔‘‘ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ کو تمام خوارج کافر کہتے ہیں ؛ مروانیہ آپ سے بغض رکھتے ہیں ؛ حالانکہ یہ لوگ ان رافضیوں سے بہت بہتر و افضل ہیں جو حضرت ابو بکروعمر رضی اللہ عنہما سے بغض رکھتے ہیں ‘ اور انہیں گالیاں دیتے ہیں ؛ غالیہ کی توکوئی بات ہی نہیں ۔ [جس طرح خوارج کے کافر کہنے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ایمان میں فرق
[1] یہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اورحضرت علی رضی اللہ عنہ کے مابین اس چپقلش کا ذکر ہورہا ہے جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ان مخصوص حالات کی وجہ سے پیدا ہوگئی تھی ۔ ورنہ حاشاء و کلاکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضرت علی سے لڑتے بھڑتے یا گالیاں دیتے ہوں ۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت و رفاقت کے لیے بہترین لوگوں کا انتخاب کیا تھا۔ اور انہیں اللہ تعالیٰ نے باہم شیر و شکر کردیا تھا۔ جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَ اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآئً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖٓ اِخْوَانًا ﴾ [آل عمران۱۰۳] ’’ اللہ کے اس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے۔ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے ، اس نے تمہارے دل جوڑ دیے اور اس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے ۔‘‘ اور سورت فتح کی آخری آیت میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کے آپس میں شیر وشکر ہونے پر تعریف کی ہے۔ لیکن اس کے باوجود ان کے مابین جو کچھ واقعات پیش آئے اصل میں وہ ان بلوائیوں کی سازش کا نتیجہ تھے جنہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود صحابہ کرام بشر تھے ؛ اور ان سے نفوس بشری کی تحت ہونے والی کوتاہیوں کا انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ لیکن اس کے باوجود ہم یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حضرات صحابہ کرام کے آپس میں سخت و درشت کلام اور باہمی جھگڑوں کو بھی ایک دوسرے کے گناہوں کا کفارہ بنا دیں گے اور یہ سب لوگ یقیناً جنتی ہیں ۔ ایسے واقعات کی وجہ سے کسی بھی صحابی کی شان میں تنقیص کرنا اور دوسرے کی محبت میں غلو کرنا مسلمان کو زیب نہیں دیتا ۔ [ دراوی؛ کشمیری]