کتاب: مفتاح النجاۃ - صفحہ 37
تدبر نہیں کرتا، وہ آیت ہے : ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْـأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّیْلِ وَالنَّھَارِ لَآیَاتٍ لِّـأُولِی الْاَلْبَابِ﴾ ’’آسمانوں ، زمین کی تخلیق اور رات دن کے آنے جانے میں اہل عقل کیلئے نشانیاں ہیں ۔‘‘ (آل عمران : 3 : 190)‘‘ (صحیح ابن حبان : 620، أخلاق النّبي لأبي الشیخ : 568، وسندہٗ حسنٌ) سورت بنی اسرائیل ٭ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یَنَامُ حَتّٰی یَقْرَأَ بَنِي إِسْرَائِیْلَ وَالزُّمَرَ ۔ ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورت بنی اسرائیل اور زُمَر پڑھے بغیر نہیں سوتے تھے۔‘‘ (سنن التّرمذي : 2920، عمل الیوم واللّیلۃ لابن السنّي : 678، وسندہٗ صحیحٌ) اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے ’’حسن غریب‘‘ کہا ہے۔