کتاب: مسنون ذکر الٰہی، دعائیں - صفحہ 355
صرف ننانوے (۹۹) ہی ہے، جب کہ بعض کبار علما نے بھی یہی بات کہی ہے، جیسے علامہ ابن حزم رحمہ اللہ سے تسامح ہوا اور ’’المحلّی‘‘ میں انھوں نے ننانوے سے زیادہ اسمائے حُسنٰی ہونے کا سختی سے انکار کر دیا ہے۔ [1] بعض علما نے تین سو (۳۰۰)، ایک ہزار (۱۰۰۰) اور انبیاء و رُسل علیہم السلام کی تعداد کے برابر اسمائے الٰہی ہونے کی بات کہی ہے۔ صحیح تر بات: اس سلسلے میں جمہور اہلِ علم کی رائے اور صحیح تر بات یہی ہے کہ جس طرح اللہ کے کلمات کی کوئی حد و انتہا نہیں۔ اسی طرح اس کے ’’اسمائے حُسنٰی بھی لاتعداد و بے شمار ہیں۔ دلیل: -153 اس بات کی دلیل وہ حدیث ہے، جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’جب بھی کسی کو کوئی غم و پریشانی لاحق ہو تو وہ یہ دُعا [1] دیکھیں: المحلّی (۱/ ۳۰، ۸/ ۳۱)