کتاب: مسنون ذکر الٰہی، دعائیں - صفحہ 202
سے اُٹھے ہیں اور وہ مجلس ان کے لیے باعثِ حسرت ہے۔‘‘ [1] 181۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کم ہی کسی مجلس سے یہ اَدعیہ کیے بغیر اُٹھتے تھے: (( اَللّٰھُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْیَتِکَ مَا تَحُوْلُ بِہٖ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ مَعَاصِیْکَ وَ مِنْ طَاعَتِکَ مَا تُبَلِّغُنَا بِہٖ جَنَّتَکَ وَمِنَ الْیَقِیْنِ مَا تُھَوِّنُ بِہٖ عَلَیْنَا مَصَائِبَ الدُّنْیَا اَللّٰھُمَّ مَتِّعْنَا بِاَسْمَاعِنَا وَاَبْصَارِنَا وَقُوَّتِنَا مَا اَحْیَیْتَنَا وَاجْعَلْہُ الْوَارِثَ مِنَّا وَاجْعَلْ ثَاْرَنَا عَلٰی مِنْ ظَلَمَنَا و َانْصُرْنَا عَلٰی مَنْ عَادَانَا وَلَا تَجْعَلْ مُصِیْبَتَنَا فِیْ دِیْنِنَا وَلَا تَجْعَلِ الدُّنْیَا اَکْبَرَ ھَمِّنَا وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا وَلَا تُسَلِّطْ عَلَیْنَا مَنْ لَّا یَرْحَمُنَا )) [2] [1] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۴۸۵۵) حاکم (۱/ ۶۶۹) علیٰ شر ط ِمسلم و وافقہ الذہبي۔ [2] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۳۵۰۲) حدیث حسن، ابن السنّي، حاکم، علیٰ شرط البخاري ووافقہ الذہبي۔