کتاب: مسنون ذکر الٰہی، دعائیں - صفحہ 178
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دیے تھے۔ میں نے پوچھا تھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز پر ہنسے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو اپنے بندے پر تعجب آتا ہے۔ جب وہ کہتا ہے: اے اللہ! مجھے میرے گناہ بخش دے، وہ جانتا ہے کہ میرے سوا گناہ بخشنے والا کوئی نہیں۔‘‘ [1] 143۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی طویل سفر پر جانے کے لیے اونٹ پر سوار ہوتے توتین مرتبہ ’’اَللّٰہُ أَکْبَرُ‘‘ کہہ کر یہ پڑھتے: (( سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ ﴿١٣﴾ وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْئَلُکَ فِیْ سَفَرِنَا ھٰذَا الْبِرَّ وَ التَّقْوٰی وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضٰی اَللّٰھُمَّ ھَوِّنْ عَلَیْنَا سَفَرَنَا ھٰذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَہٗ، اَللّٰھُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ وَالْخَلِیْفَۃُ فِی الْاَھْلِ [1] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۲۶۰۲) سنن النسائي الکبریٰ، رقم الحدیث (۸۸۰۰) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۳۴۴۶) حدیث حسن صحیح، وصححہ ابن حبان و الحاکم والنووي۔