کتاب: مسنون ذکر الٰہی، دعائیں - صفحہ 173
فرمایا کرتے تھے: (( اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰھُمَّ اَھِلَّہٗ عَلَیْنَا بِالْاَمْنِ وَالْاِیْمَانِ وَالسَّلَامَۃِ وَالِْاسْلَام وَالتَّوْفِیْقِ لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی رَبُّنَا وَرَبُّکَ اللّٰہُ )) [1] ’’اللہ سب سے بڑا ہے، اے اللہ! تو اس چاند کو ہمارے لیے امن و ایمان، سلامتی و اسلام اور اپنے محبوب و پسندیدہ اعمال کی توفیق کا پیامبر بنا۔ اے ہلال! ہمارا (۲۴) اور تیرا رب اللہ ہے۔‘‘ سفر کی دُعائیں: 137۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو شخص سفر کا ارادہ کر کے نکلے وہ پیچھے رہنے والوں کے لیے یہ دعا کرے: (( اَسْتَوْدِعُکُمُ اللّٰہَ الَّذِیْ لَا تَضِیْعُ وَدَائِعُہٗ )) [2] ’’میں تمھیں اس اللہ کے سپرد کرتا ہوں جس کی سپرد داری [1] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۳۴۵۱) سنن الدارمي، رقم الحدیث (۱۷۳۰) صحیح ابن حبان (۳/ ۱۷۱) [2] سنن النسائي الکبریٰ، رقم الحدیث (۱۰۲۶۹) مسند أحمد، رقم الحدیث (۸۶۹۴) و حسّنہٗ الحافظ۔