کتاب: مسنون ذکر الٰہی، دعائیں - صفحہ 127
سے کیوں پناہ مانگتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’آدمی جب قرض دار ہو تو بات کرتے ہوئے جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرکے وعدہ خلافی کرتا ہے۔‘‘ [1] 86۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: مجھے وہ دعا سکھائیں جو میں نماز میں کیا کروں؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہا کرو: (( اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ ظُلْمًا کَثِیْرًَا وَّلَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلاَّ اَنْتَ فَاغْفِرْلِیْ مَغْفِرَۃً مِّنْ عِنْدِکَ وَارْحَمْنِیْ اِنَّکَ اَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ))[2] ’’اے اللہ! میں نے اپنے نفس پر بہت ظلم کیا ہے اور تیرے سوا کوئی بخشنے والا نہیں، میری مغفرت فرما اور مجھ پر رحم فرما، بلاشبہہ تو بخشنے اور رحم کرنے والا ہے۔‘‘ 87۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشہد اور سلام کی درمیانی دعاؤں [1] مسند أحمد، رقم الحدیث (۲۶۰۷۵) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۸۳۴) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۷۰۵)