کتاب: مسنون نماز اور روز مرہ کی دعائیں - صفحہ 54
اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے فریضۂ حج سے غفلت و اعراض کو کفر سے تعبیر فرمایا اور حضرت ابن عباس، مجاہد اور دیگر کئی حضرات نے اس آیت کی تفسیر و توضیح میں فرمایا: ((ای و من جَحَدَ فریضۃ الحج فقد کفر)) (تفسیر ابن کثیر) ’’جس نے فریضۂ حج کا انکار کیا، اس نے کفر کا ارتکاب کیا۔‘‘ الغرض اسلام کے یہ بنیادی ارکان و فرائض ایک مسلمان کے لیے انتہائی ضروری ہیں جن کے بغیر مسلمانی کا دعویٰ کسی مسلمان کو زیب نہیں دیتا۔ ایک سچا اور صحیح مسلمان ان تمام فرائض کا پابند ہوتا ہے اور ان سے غفلت و اعراض نہیں کرتا۔ پھر ان فرائض مذکورہ میں نماز اس لحاظ سے سب سے زیادہ اہم ہے کہ شب و روز میں پانچ وقت اس کی ادائیگی کا اہتمام کرنا پڑتا ہے۔ جبکہ دیگر ارکان سالانہ نوعیت کے حامل ہیں ۔ زکاۃ کے لیے بھی حَوْلَانِ حول (سال گزرنے) کی شرط ہے۔ رمضان المبارک کے روزے بھی سال کے بعد آتے ہیں اور حج تو زندگی میں صرف ایک ہی مرتبہ فرض ہے وہ بھی صرف صاحبِ استطاعت کے لیے، اس لیے نماز ہی ایک ایسی عبادت ہے جس سے دراصل کسی مسلمان کی شناخت ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک نماز ہی ایک ایسی چیز ہے کہ جو کفر و اسلام کے درمیان فرق کرنے والی ہے نیز صحابۂ کرام کہتے ہیں کہ نماز کے ترک کے علاوہ کسی اور چیز کو ہم کفر نہیں سمجھتے تھے۔[1] خود نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مسلم حکمرانوں کی سب سے بڑی علامت یہی بتلائی ہے کہ وہ نماز کا اہتمام کرتے ہیں اور جب تک حکمران نماز کا اہتمام کرتے رہیں ، نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خلاف شورش و بغاو ت کا اقدام کرنے سے منع فرمایا ہے۔ لیکن نہایت افسوس کی بات ہے کہ آج مسلمان اپنی اس شناخت سے محروم ہوتے چلے [1] جامع الترمذي، حدیث: 2622۔