کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 95
جب کوئی شخص ایک واضح دلیل کو جھٹلا دے تو اس کے لیے دوسری دلیلوں کو جھٹلانا کچھ مشکل نہیں ہوتا۔ اگر آپ ان کے پاس کوئی بھی معجزہ لے آئیں یہ یہی کہیں گے کہ تم تو محض جھوٹے ہو۔‘‘[1] 11دُنیا سے محبت: (اللَّهِ الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَوَيْلٌ لِلْكَافِرِينَ مِنْ عَذَابٍ شَدِيدٍ (2) الَّذِينَ يَسْتَحِبُّونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا عَلَى الْآخِرَةِ وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا أُولَئِكَ فِي ضَلَالٍ بَعِيدٍ )(ابراہیم:2,3) ’’اس اللہ کے (راستے کی طرف) کہ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور کافروں کے لیے سخت عذاب کے باعث بڑی ہلاکت ہے۔ وہ جو دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں پسند کرتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہیں، یہ لوگ بہت دور کی گمراہی میں ہیں۔‘‘ حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ لکھتے ہیں: ’’دنیا میں بھی ان کے لیے بربادی ہی بربادی ہے۔ اور قیامت کے دن تو ان کی اس سے بھی بڑھ کر شامت آنے والے ہیں۔ دنیا میں کفار کے لیے ’’ویلٌ‘‘ کی ایک معمولی سی مثال یہ ہے کہ خود کشی کی شرح آپ سب سے زیادہ کفار میں پائیں گے ، خصوصاً جو ان میں زیادہ ترقی یافتہ ہیں، مثلاً جاپان وغیرہ۔اللہ تعالیٰ کو تو آخرت کے مقابلے میں دنیا کو محبوب رکھنا ہی پسند نہیں جب کہ یہ کفار آخرت کے مقابلے میں دنیا کو بہت زیادہ محبوب رکھتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ دنیا کی چیزوں سے محبت اس وقت بربادی کا باعث ہے جب وہ اللہ کی محبت کے مقابلے میں غالب ہو ، ورنہ دنیا سے فائدہ مومن کے لیے بھی جائز ہے، بلکہ اللہ کی محبت کے تحت اور اس کے احکام کے تحت اپنے بیوی بچوں، دوستوں اور مال وغیرہ سے محبت فطری چیز ہے اور ان کے حقوق کی ادائیگی سے اجر ملتا ہے۔ اس کے برعکس رہبانیت اس فطرت سے جنگ ہے جو اللہ کو پسند نہیں۔ ‘‘[2]  ( ذَلِكَ بِأَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا عَلَى الْآخِرَةِ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ) (النحل:107) ’’یہ اس لیے کہ بے شک انھوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں محبوب رکھا اور اس لیے کہ بے شک اللہ کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ [1] ) تفسیر القرآن الکریم : 3/513 [2] ) تفسیر القرآن الکریم : 2/282