کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 94
بات کو نہیں جانتے۔[1] (رازی)‘‘ (وَقَالُوا إِنْ نَتَّبِعِ الْهُدَى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ أَرْضِنَا أَوَلَمْ نُمَكِّنْ لَهُمْ حَرَمًا آمِنًا يُجْبَى إِلَيْهِ ثَمَرَاتُ كُلِّ شَيْءٍ رِزْقًا مِنْ لَدُنَّا وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ )(القصص:57) ’’اور انھوں نے کہا اگر ہم تیرے ہمراہ اس ہدایت کی پیروی کریں تو ہم اپنی زمین سے اچک لیے جائیں گے۔ اور کیا ہم نے انھیں ایک با امن حرم میں جگہ نہیں دی؟ جس کی طرف ہر چیز کے پھل کھینچ کر لائے جاتے ہیں، ہماری طرف سے روزی کے لیے اور لیکن ان کے اکثر نہیں جانتے۔‘‘ حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ لکھتے ہیں: ’’بعض مشرکین نے یہ کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ آپ حق پر ہیں، لیکن ہم ڈرتے ہیں کہ اگر ہم نے آپ کے ہمراہ ہدایت کی پیروی اختیار کر لی اور سارے عرب کی مخالفت مول لے لی تو وہ ہمیں ہماری سر زمین سے اُچک لیں گے اور ایسی خاموشی سے یکلخت اُٹھا لے جائیں گے کہ کسی کو خبر بھی نہ ہو گی۔ ‘‘[2] (وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِي هَذَا الْقُرْآنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ وَلَئِنْ جِئْتَهُمْ بِآيَةٍ لَيَقُولَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ أَنْتُمْ إِلَّا مُبْطِلُونَ (58) كَذَلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ )(الروم:58،59) ’’اور بلاشبہ یقینا ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر طرح کی مثال بیان کی ہے اور یقینا اگرتو ان کے پاس کوئی نشانی لائے تو یقینا وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ضرور ہی کہیں گے کہ تم نہیں ہو مگر جھوٹے۔اسی طرح اللہ ان لوگوں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے جو نہیں جانتے۔‘‘ حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ لکھتے ہیں: ’’ہم نے اپنے وجود ، اپنی وحدانیت ، اپنی قدرت، کائنات کی تخلیق اور اسے دوبارہ پیدا کرنے کی دلیل کے لیے ہر قسم کی مثالیں بیان کر دی ہیں اور رسول نے اپنا فریضہ ادا کر دیا ہے۔ اس کے بعد اگر کوئی شخص مزید کسی معجز ے کا مطالبہ کرتا ہے تو وہ ضد اور عناد کی وجہ سے ایسا کرتا ہے، کیونکہ [1] ) تفسیر القرآن الکریم : 1/541 [2] ) تفسیر القرآن الکریم :, 3/390،389