کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 93
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بے شک اللہ جمیل ہے، جمال کو پسند کرتا ہے، تکبر تو حق کو ٹھکرا دینے اور لوگوں کو حقیر سمجھنے کا نام ہے۔‘‘ 0 1جہالت: (وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ لَوْلَا يُكَلِّمُنَا اللَّهُ أَوْ تَأْتِينَا آيَةٌ كَذَلِكَ قَالَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِثْلَ قَوْلِهِمْ تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ قَدْ بَيَّنَّا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ) (البقرہ:118) ’’اور ان لوگوں نے کہا جو نہیں جانتے ہم سے اللہ کلام کیوں نہیں کرتا؟ یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی؟ ایسے ہی ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، ان کی بات جیسی بات کہی، ان کے دل ایک دوسرے جیسے ہوگئے ہیں۔ بے شک ہم نے ان لوگوں کے لیے آیات کھول کر بیان کر دی ہیں جو یقین کرتے ہیں۔‘‘ حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ لکھتے ہیں: ’’اس سے مراد کفارِ عرب ہیں، جنھوں نے اپنے سے پہلے لوگوں یعنی یہود و نصاریٰ کی طرح یہ مطالبہ کیا۔ ‘‘[1] (وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِنْ رَبِّهِ قُلْ إِنَّ اللَّهَ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُنَزِّلَ آيَةً وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُون)(الانعام:37) ’’اور انھوں نے کہا اس پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی؟ کہہ دے بے شک اللہ اس پر قادر ہے کہ کوئی نشانی اتارے اور لیکن ان کے اکثر نہیں جانتے۔ ‘‘ حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ لکھتے ہیں: ’’منکرین نبوت یہ شبہ بھی پیش کرتے تھے کہ اگر یہ اللہ کے رسول ہیں ہیں تو اپنے ساتھ نظر آنے والا ایسا معجزہ کیوں نہیں لاتے جسے دیکھ کر ہر شخص کو معلوم ہو جائے کہ یہ واقعی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والا رسول ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ اللہ ایسا کرنے پرقادر ہے ، مگر اس کی حکمت اور مصلحت یہ ہے کہ اگر صاف کھلی نشانی آجائے، جیسے اونٹنی جو صالح علیہ السلام کے عہد میں بھیجی گئی تو اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق ان کی مدت مہلت ختم ہو جائے گی اور فوراً عذاب آجائے گا، لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت کا تقاضا ہے کہ ان کو ہلاک نہ کیا جائے، مگر ان کے اکثر اس [1] ) تفسیر القرآن الکریم : 1/541