کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 92
جائے گا، اس لیے کہ تم زمین میں کسی حق کے بغیر تکبر کرتے تھے اور اس لیے کہ تم نافرمانی کیا کرتے تھے ۔‘‘ حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ لکھتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا اس نیکی یا بدی کی مناسبت سے دی جائے گی، جیسا کہ روزہ داروں کے لیے باب الریان سے داخل ہو گا۔ تو کفار کو ذلیل کرنے والا عذاب اس تکبر کی مناسبت سے ہو گا جو انہوں نے کیا، وہ اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے تھے، ان کی عزت انہیں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے کی اجازت نہیں دیتی تھی، لامحالہ انہیں ایسا عذاب دیا جائے گا جو ان کے تکبر کا بدلا ہوا۔ قیامت کے بعض مواقع میں ان کی ذلت کا نقشہ اس حدیث میں بیان ہوا جو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((یُحْشَرُ الْمُتَکَبِّرُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَمْثَالَ الذَّرِّفِيْ صُوَرِ الرِّجَالِ یَغْشَاہُمُ الذُّلُّ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ فَیُسَاقُوْنَ إِلٰی سِجْنٍ فِيْ جَہَنَّمَ یُسَمّٰی بُوْلَسَ تَعْلُوْہُمْ نَارُ الْأَنْیَارِ یُسْقَوْنَ مِنْ عُصَارِ أَہْلِ النَّارِ طِیْنَۃِ الْخَبَالِ۔))[1] ’’متکبر لوگ قیامت کے دن آدمیوں کی شکل میں چیونٹیوں کی طرح اٹھائے جائیں گے، ہر جگہ سے ذلت انہیں ڈھانپ رہی ہو گی۔ پھر انہیں ہانک کر جہنم کے ایک قید خانے کی طرف لے جایا جائے گا جس کا نام بولس ہے۔ ان پر آگوں کی آگ چڑھ رہی ہو گی، انہیں جہنمیوں کا نچوڑ پلایا جائے گا، جو تباہ کن کیچڑ ہو گا۔‘‘ رہی یہ بات کہ تکبر کیا ہے؟ تو اس کی تفصیل عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِيْ قَلْبِہٖ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ مِّنْ کِبْرٍ۔)) قَالَ: رَجُلٌ إِنَّ الرَّجُلَ یُحِبُّ أَنْ یَّکُوْنَ ثَوْبُہٗ حَسَنًا وَ نَعْلُہٗ حَسَنَۃً، قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ جَمِیْلٌ یُحِبُّ الْجَمَالَ، اَلْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَ غَمْطُ النَّاسِ۔))[2] ’’وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہو گا۔‘‘ ایک آدمی نے کہا: آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کے پکڑے اچھے ہوں اور اس کا جوتا اچھا ہو (تو کیا یہ تکبر ہے)؟ تو [1] ) ترمذي، صفۃ القیامۃ، باب ما جاء في شد الوعید للمتکبرین: 2492، قال الألباني حسن۔ [2] ) صحیح مسلم، الإیمان، باب تحریم الکبر و بیانہ: 91۔