کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 91
اس پر جملے ہوئے تھے۔ قرآن مجید نے مختلف طریقوں سے بار بار یہ حقیقت واضح فرمائی اور اس سے دُور رہنے کی تاکید فرمائی۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہود اکہتر (71) یا بہتر (72) فرقوں میں جدا جدا ہو گئے، اسی طرح نصاریٰ بھی اور میری امت تہتر (73) فرقوں میں جدا جدا ہو جائے گی۔‘‘[1] دوسری حدیث میں وضاحت ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’سب آگ میں جائیں گے مگر ایک۔ پوچھنے پر بتایا: ((مَا أَنَا عَلَیْہِ وَ أَصْحَابِيْ)) ’’جس طریقے پر میں اور میرے اصحاب ہیں۔‘‘[2] افسوس! امت مسلمہ کے تفرقہ بازوں نے بھی وہی روش اختیار کی کہ حق اور اس کے روشن دلائل قرآن کریم اور سنت صحیحہ کی صورت میں انہیں خوب اچھی طرح معلوم ہیں، مگر وہ اپنی فرقہ بندیوں پر جمے ہوئے ہیں اور اپنی عقل و ذہانت کا سارا زور پہلی امتوں کی طرح تاویل و تحریف کے مکروہ شغل میں ضائع کر رہے ہیں۔‘‘[3] (فَاخْتَلَفَ الْأَحْزَابُ مِنْ بَيْنِهِمْ فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ مَشْهَدِ يَوْمٍ عَظِيمٍ)(مریم:37) ’’پھر ان گروہوں نے اپنے درمیان اختلاف کیا تو ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا، ایک بڑے دن کی حاضری کی وجہ سے بڑی ہلاکت ہے۔‘‘ 9 غرور اور تکبر: ارشاد باری تعالیٰ ہے: (وَيَوْمَ يُعْرَضُ الَّذِينَ كَفَرُوا عَلَى النَّارِ أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا فَالْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُونَ )(الاحقاف: 20) ’’اور جس دن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، آگ پر پیش کیے جائیں گے، تم اپنی نیکیاں اپنی دنیا کی زندگی میں لے جا چکے اور تم ان سے فائدہ اٹھا چکے، سو آج تمھیں ذلت کے عذاب کا بدلہ دیا [1] ) ترمذي، الإیمان، باب ما جاء فی افتراق ہذہ الامۃ: 2640۔ [2] ) ترمذي، الإیمان، باب ما جاء في افتراق ہذہ الأمۃ: 2641، و حسنہ الألباني۔ [3] ) تفسیر القرآن الکریم: 1/286۔