کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 90
7 بخل: ارشاد باری تعالیٰ ہے: (الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَيَكْتُمُونَ مَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مُهِينًا) (النسائ: 37) ’’وہ لوگ جو بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بخل کا حکم دیتے ہیں اور اسے چھپاتے ہیں جو اللہ نے انھیں اپنے فضل سے دیا ہے اور ہم نے کافروں کے لیے رسوا کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘ حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ تفسیر ابن کثیر کے حوالے سے لکھتے ہیں: ’’بعض سلف نے اس آیت میں بخل کے لفظ کو یہودیوں کے بخل پر محمول کیا ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور علامات کو لگوں سے چھپاتے تھے۔ غرض بخل مال کا ہو یا علم کا شدید مذموم ہے۔‘‘[1] 8 اختلاف اور تفرقہ بازی: ارشاد باری تعالیٰ ہے: (وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَأُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ (105) يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُونَ) (آل عمران: 105-106) ’’اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائو جو الگ الگ ہو گئے اور ایک دوسرے کے خلاف ہوگئے، اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح احکام آ چکے اور یہی لوگ ہیں جن کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔ جس دن کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے، تو جن لوگوں کے چہرے سیاہ ہوں گے، کیا تم نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا؟ تو عذاب چکھو، اس وجہ سے کہ تم کفر کیا کرتے تھے۔‘‘ حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ فرماتے ہیں: ’’معلوم ہوا کہ یہود و نصاریٰ کے باہمی اختلاف اور فرقہ بندی کی وجہ یہ نہ تھی کہ انہیں حق کا پتا نہ تھا اور وہ اس کے دلائل سے بے خبر تھے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے سب کچھ جانتے ہوئے محض اپنے دنیاوی مفاد اور نفسانی اغراض کے لیے اختلاف اور فرقہ بندی کا راستہ اختیار کیا تھا اور [1] ) تفسیر القرآن الکریم: 1/364۔