کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 85
(بَلِ اتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَهْوَاءَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَمَنْ يَهْدِي مَنْ أَضَلَّ اللَّهُ وَمَا لَهُمْ مِنْ نَاصِرِينَ) (الروم: 29) ’’بلکہ وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا وہ جانے بغیر اپنی خواہشوں کے پیچھے چل پڑے، پھر اسے کون راہ پر لائے جسے اللہ نے گمراہ کر دیا ہو اور ان کے لیے کوئی مدد کرنے والے نہیں ہیں۔‘‘حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ فرماتے ہیں: ’’یعنی آیات کو کھول کر بیان کرنے کا فائدہ ان لوگوں کو ہے جو عقل کے پیچھے چلیں، مگر یہ لوگ جنہوں نے شرک کے ارتکاب کا ظلم کیا، جس سے بڑا کوئی ظلم نہیں، یہ عقل کے پیچھے چلنے کے بجائے اپنی خواہشوں کے پیچھے چل رہے ہیں اور شرک کا اصل وہ خواہشیں اور آرزوئیں ہی ہیں جو شیطان اپنے پیچھے چلنے والوں کے دلوں میں پیدا کر دیتا ہے۔ جن کا انہ انہیں علم ہوتا ہے اور نہ حقیقت میں کہیں ان کا وجود ہوتا ہے۔ دیکھیے سورہ نساء (112-120) اور سورہ نجم (23-25)۔‘‘ [1] 3 حد سے گزرنا: ارشاد باری تعالیٰ ہے: (وَكَذَلِكَ نَجْزِي مَنْ أَسْرَفَ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِآيَاتِ رَبِّهِ وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَشَدُّ وَأَبْقَى)(طہ: 127) ’’اور اسی طرح ہم اس شخص کو جزا دیتے ہیں جو حد سے گزرے اور اپنے رب کی آیات پر ایمان نہ لائے اور یقینا آخرت کا عذاب زیادہ سخت اور زیادہ باقی رہنے والا ہے۔‘‘ حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ فرماتے ہیں: ’’حد سے گزرنے والا سب سے بڑھ کر وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات یا صفات میں کسی کو اس کا شریک ٹھہرائے، پھر وہ ہے جو عبودیت (بندگی) کے مقام سے بڑھ کر اتنا بڑا (متکبر) بنے کہ اپنی خواہش نفس کے پیچھے لگ کر اپنے خالق و مالک کی کوئی بات نہ مانے۔‘‘[2] 4 اللہ پر اعتراض کرنا: ارشاد باری تعالیٰ ہے: (إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي أَنْ يَضْرِبَ مَثَلًا مَا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِمْ وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَيَقُولُونَ مَاذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهَذَا مَثَلًا يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَ [1] ) تفسیر القرآن الکریم: 3/494. [2] ) تفسیر القرآن الکریم: 2/695.