کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 83
کے لیے شریک ٹھہرائیں۔ اور وہ ندامت کو چھپائیں گے جب عذاب دیکھیں گے اورہم ان لوگوں کی گردنوں میں جنھوں نے کفر کیا، طوق ڈال دیں گے۔ انھیں بدلہ نہیں دیا جائے گا مگر اسی کا جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘ کفار کی صفات قرآن مجید کی روشنی میں قرآن حکیم نے کافروں کی بہت ساری ایسی صفات ذکر کی ہیں جن سے مسلمانوں کو اجتناب کی ضرورت ہے اور ان سے اپنے آپ کو بھی اور اپنے اہل و عیال اور دوست احباب کو بھی بچانا لازمی ہے۔ ہم کفار کی چند ایک صفتیں آیات کریمہ کی رو سے ذیل میں بیان کرتے ہیں اور یہ بھی یاد رہے کہ جس مسلم میں ان سے کوئی ایک یا کئی صفات پائی گئیں تو اس میں کفر کی صفتیں ہوں گی اور وہ ناقص الایمان ہو جائے گا جبکہ ایسی صفات دیکھ کر ہم اس کے کافر ہونے کا حکم نہیں لگائیں گے جب تک دیگر شروط و موانع نہ دیکھ لیے جائیں۔ 1 باطل کی اتباع: ارشاد باری تعالیٰ ہے: (ذَلِكَ بِأَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَأَنَّ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَبِّهِمْ كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ لِلنَّاسِ أَمْثَالَهُمْ) (محمد: 3) ’’یہ اس لیے کہ بے شک جن لوگوں نے کفر کیا انھوں نے باطل کی پیروی کی اور بے شک جو لوگ ایمان لائے وہ اپنے رب کی طرف سے حق کے پیچھے چلے۔ اسی طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کے حالات بیان کرتا ہے ۔‘‘ حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ فرماتے ہیں: ’’یعنی کفار کے اعمال برباد کرنے اور ایمان والوں کے گناہ دور کرنے اور ان کا حال درست کرنے کی وجہ یہ ہے کہ کفار نے باطل کی پیروی اختیار کی اور ا سکے پیچھے چل پڑے، جب کہ ایمان والے اس حق پر چلتے رہے جو ان کا اپنا طے کردہ نہیں تھا، بلکہ ان کے رب کی طرف سے سے نازل کیا ہوا تھا۔ دونوں کے راستے مختلف تھے، اس لیے ان کا انجام بھی مختلف ہوا۔‘‘[1] 2 خواہشات نفسانی کی پیروی: ارشاد باری تعالیٰ ہے: [1] ) تفسیر القرآن الکریم: 4/301-302۔