کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 79
(وَتَرَى الْمُجْرِمِينَ يَوْمَئِذٍ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ) (ابراہیم: 49) ’’اور تومجرموں کو اس دن زنجیروں میں ایک دوسرے کے ساتھ جکڑے ہوئے دیکھے گا۔‘‘ معلوم ہوا کہ کفار و مشرکین قیامت والے دن ایک دوسرے کے ساتھ زنجیروں میں بندھے ہوئے ہوں گے۔ (هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ فَالَّذِينَ كَفَرُوا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِنْ نَارٍ يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوسِهِمُ الْحَمِيمُ (19) يُصْهَرُ بِهِ مَا فِي بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ) (الحج: 19-20) ’’یہ دو جھگڑنے والے ہیں، جنھوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا، تو وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ان کے لیے آگ کے کپڑے کاٹے جاچکے ، ان کے سروں کے اوپر سے کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا۔ اس کے ساتھ پگھلا دیا جائے گا جو کچھ ان کے پیٹوں میں ہے اور چمڑے بھی۔‘‘ اس آیت میں کفار کے لیے جہنم کا عذاب، آگ کے کپڑوں، گرم کھولتے ہوئے پانی اور لوہے کہ ہتھوڑوں کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔ (وَجِيءَ يَوْمَئِذٍ بِجَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ يَتَذَكَّرُ الْإِنْسَانُ وَأَنَّى لَهُ الذِّكْرَى_يَقُولُ يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي (24) فَيَوْمَئِذٍ لَا يُعَذِّبُ عَذَابَهُ أَحَدٌ (25) وَلَا يُوثِقُ وَثَاقَهُ أَحَدٌ) (الفجر: 23-26) ’’اور اس دن جہنم کو لایا جائے گا، اس دن انسان نصیحت حاصل کرے گا اور ( اس وقت) اس کے لیے نصیحت کہاں۔ کہے گا اے کاش! میں نے اپنی زندگی کے لیے آگے بھیجا ہوتا۔ پس اس دن اس کے عذاب جیسا عذاب کوئی نہیں کرے گا ۔ اور نہ اس کے باندھنے جیسا کوئی باندھے گا۔‘‘ حافظ صاحب فرماتے ہیں: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((یُؤْتٰی بِجَہَنَّمَ یَوْمَئِذٍ لَّہَا سَبْعُوْنَ أَلْفَ زَمَامٌ، مَعَ کُلِّ زَمَامٍ سَبْعُوْنَ أَلْفَ مَلِکٌ یَجُرُّوْنَہَا۔))[1] ’’اس دن جہنم اس حال میں لائی جائے گی کہ اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی، ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ کر لائیں گے۔‘‘[2] [1] ) صحیح مسلم، الجنۃ و صفۃ نعیمہا، باب جہنم أعاذنا اللّٰہ منہا: 2842۔ [2] ) تفسیر القرآن الکریم: 4/951۔