کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 76
روشنی کی اتنی چمک بھی نہیں جتنی سراب پر دھوکا کھانے والے کو نظر آتی تھی۔ یہ لوگ خالص اندھیروں اور تہ بہ تہ ظلمات میں بند ہیں روشنی کی کوئی شعاع کسی طرح سے ان تک نہیں پہنچتی۔‘‘[1] مزید کہا: ’’اس مثال کی وضاحت یہ ہے کہ گہرے پانیوں والے سمندر کی گہرائی پانی کی موٹائی کی وجہ سے نہایت تاریک ہوتی ہے۔ جدید تحقیقات بھی یہی ہیں کہ سمندر کی گہرائی میں ایک حد کے بعد روشنی کا گزر بالکل نہیں ہوتا، پھر جب اس پر تہ بہ تہ موجیں ہوں تو تاریکی اور بڑھ جاتی ہے اور جب ان موجوں کے اوپر بادل بھی ہوں تو تاریکی اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے، تو جو شخص ایسے سمندر کی گہرائی میں ہو وہ اتنی تہ بہ تہ تاریکیوں میں ہو گا کہ اپنے ہاتھ کو دیکھنا چاہے تو قریب نہیں کہ دیکھ پائے، حالانکہ آدمی اپنے جسم کا جو حصہ آنکھوں کے سب سے زیادہ قریب لے جا کر دیکھ سکتا ہے وہ اس کا ہاتھ ہے۔ آیت میں کافر کے عمل کی ایسے شخص کے ساتھ تشبیہ کی کیفیت اہلِ علم نے کسی طرح بیان فرمائی ہے، طبری نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے معتبر سند کے ساتھ نقل فرمایا ہے کہ انہوں نے فرمایا: ’’کافر‘‘ پانچ ظلمتوں میں پھرتا رہتا ہے، چنانچہ اس کا کلام ظلمت ہے، اس کا عمل ظلمت ہے، وہ ظلمت میں داخل ہوتا ہے اور ظلمت ہی میں سے نکلتا ہے اور قیامت کے دن آگ کی طرف جاتے ہوئے اس کا لوٹنا بھی ظلمتوں میں ہو گا۔ (طبری: 26371) یہ سید القراء کی تفسیر ہے، بعض اہلِ علم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تین طرح کی ظلمتیں بیان فرمائی ہیں، سمندر کی ظلمت، امواج کی ظلمت اور بادلوں کی ظلمت۔ اسی طرح کافر بھی تین ظلمتوں میں گرفتار ہے، عقیدے کی ظلمت، قول کی ظلمت اور عمل کی ظلمت۔‘‘[2] 2 کفار کی عقلوں پر پردہ پڑ چکا ہے: ارشاد باری تعالیٰ ہے: (خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ)(البقرۃ: 7) ’’اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی اور ان کی نگاہوں پر ایک پردہ ہے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔‘‘ حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ صاحب فرماتے ہیں: [1] ) تفسیر القرآن الکریم: 3/136۔ [2] ) تفسیر القرآن الکریم: 3/137۔