کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 72
امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’و أما الفسوق: فہو في کتاب اللّٰہ نوعان مفرد مطلق و مقرون بالعصیان۔ و المفرد نوعان أیضا: فسوق کفر یخرج عن الإسلام و فسوق لا یخرج عن الإسلام۔‘‘ [1] ’’بہرحال اللہ کی کتاب میں فسق کی دو انواع ہیں: 1 مفرد مطلق 2 عصیان کے ساتھ ملا ہوا اور مفرد فسق کی بھی۔ اسی طرح دو انواع ہیں: 1 ایسا فسق جو اسلام سے خارج کرنے والا ہے۔ 2 ایسا فسق جو اسلام سے خارج نہیں کرتا۔‘‘ پھر اس کے بعد امام ابن القیم نے قرآن و سنت کے دلائل ہر ایک قسم پر پیش کیے ہیں جو لائق مطالعہ ہیں: بہرکیف یہاں صرف یہ بتلانا مقصود ہے کہ کتاب و سنت کی وارد شدہ نصوص میں فسق دو طرح کا ہے ایک فسق اکبر اور دوسرا فسق اصغر اول الذکر کا مرتکب اسلام سے خارج ہو جاتا ہے جبکہ ثانی الذکر کا مرتکب گناہ گار، ناقص الایمان مسلم ہے۔ و اللہ اعلم کفر کے بعض نتائج اب ہم کچھ ایسی بات ذکر کر رہے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کفر کی وجہ سے کیا نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔ 1 کفار کے اعمال باطل ہیں: ارشاد باری تعالیٰ ہے(أُولَئِكَ الَّذِينَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَا لَهُمْ مِنْ نَاصِرِينَ )(آل عمران: 22) ’’یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہوگئے اور ان کی مدد کرنے والے کوئی نہیں۔ ‘‘ اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ کفار کو ان کے نیک اعمال کوئی نفع نہیں دیں گے اور قیامت والے دن ان کا کوئی مددگار نہیں ہو گا۔مزید فرمایا: [1] ) مدار السالکین ، ص: 225، ط: دار الکتب العلمیۃ۔