کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 71
’’حج چند مہینے ہے، جو معلوم ہیں، پھر جو ان میں حج فرض کر لے تو حج کے دوران نہ کوئی شہوانی فعل ہو اور نہ کوئی نا فرمانی اور نہ کوئی جھگڑا۔‘‘ امام محمد بن نصر المروزی فرماتے ہیں: ’’فقالت العلماء فی تفسیر الفسوق ہاہنا ہي المعاصي۔‘‘[1] ’’علماء نے کہا ہے کہ فسق کی تفسیر ان مقامات پر نافرمانیوں اور معاصی سے ہے۔‘‘ 3 ایک اور مقام پر فرمایا: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ)لحجرات: 6) ’’اے لوگو جو ایما ن لائے ہو ! اگر تمھارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کر لو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو لاعلمی کی وجہ سے نقصان پہنچا دو، پھر جو تم نے کیا اس پر پشیمان ہو جائو۔‘‘ یہ آیت کریمہ ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی جب انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قوم کی طرف صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا۔[2] امام ابن عبدالبر لکھتے ہیں: ’’و لا خلاف بین أہل العلم بتأویل القرآن فیما علمت أن قولہ عزوجل  نزلت فی الولید بن عقبۃ۔‘‘[3] ’’میرے علم کے مطابق قرآن مجید کی آیت کی تفسیر میں اہل علم کے ہاں کوئی اختلاف نہیں کہ یہ ولید بن عقبہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک قوم کی طرف صدقات وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا۔‘‘ اس آیت کریمہ میں فاسق کا اطلاق ایک ایمان والے پر کیا گیا ہے اور ایسا فسق ہے جو اسالم سے خارج کرنے والا نہیں ہے۔ [1] ) کتاب الصلاۃ، ص: 170۔ [2] ) المعجم الکبیر للطبراني: 18/6-7، رقم: 4۔ الآحاد و المثاني لإبن أبي عاصم: 4/309-310، رقم: 2335۔ معرفۃ الصحابۃ لأبي نعیم الأصبہاني: 4/2175، رقم: 5453۔ أسد الغابۃ: 5/420۔ تاریخ دمشق: 66/168 وغیرہا۔ [3] ) الإستیعاب في بیان الأسباب: 4/114۔ أسد الغابۃ: 5/420۔