کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 68
’’بسا اوقات وہ کافر کو ظالم کا نام دیتا ہے اور مسلمانوں میں سے عاصی و نافرمان کو بھی ظالم کا نام دیا تو ایک ظلم ملت اسلامیہ سے خارج کرنے والا ہے اور ایک ظلم ملت اسلامیہ سے خارج کرنے والا نہیں ہے۔‘‘ شیخ الاسلام امام ابن تمیہ رحمہ اللہ ظلم کی اقسام بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’ظلم مطلق ’’کفر‘‘ کو شامل ہے حالانکہ وہ کفر کے ساتھ خاص نہیں بلکہ اس کے علاوہ معاصی کو بھی شامل ہے۔‘‘ پھر لکھتے ہیں: ’’و أما ’’الظلم المقید‘‘ فقد یختص بظلم الإنسان نفسہ ، و ظلم الناس بعضہم بعضاً۔‘‘ ’’بہرحال ظلم مقید بسا اوقات انسان کا اپنی جان کے ساتھ ظلم کرنے اور بعض لوگوں کا بعض کے ساتھ ظلم کرنے کے ساتھ خاص ہوتا ہے۔‘‘ پھر آدم و موسیٰ علیہ السلام اور اہل ایمان کے متعلق ظلم کے حوالے سے آیات ذکر کر کے لکھتے ہیں: ’’و ذلک قد عرف و للّٰہ الحمد أنہ لیس کفرا۔‘‘[1] ’’اوریہ بات پہچانی جا چکی ہے کہ یہ کفر نہیں ہے اور حمد اللہ ہی کے لیے ہے۔‘‘ لہٰذا قرآن و سنت میں وارد شدہ نصوص میں جب لفظ ظلم بولا جائے تو اچھی طرح غور و تدبر کی ضرورت ہوتی ہے کہ یہاں پر ظلم سے کون سا ظلم مراد ہے ظلم اکبر یا ظلم اصغر، کیونکہ ظلم کے اطلاقات کو پہچانے بغیر صحیح شرعی حکم واضح نہیں کیا جا سکتا۔ لفظ ’’فسق‘‘ کا کفر پر اطلاق: 1 قرآن حکیم کی بعض آیات میں لفظ ’’فسق‘‘ کفر اکبر پر بھی بولا گیا ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: (وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِ )(الکہف: 50) ’’اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو تو انھوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس، وہ جنوں میں سے تھا، سو اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی۔‘‘ امام محمد بن نصر المروزی فرماتے ہیں: [1] ) مجموع الفتاوی لابن تیمیۃ: 7/72، 79۔