کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 67
(وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَى مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ )(آل عمران: 135) ’’اور وہ لوگ کہ جب کوئی بے حیائی کرتے ہیں، یا اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں تو اللہ کو یاد کرتے ہیں، پس اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں اور اللہ کے سوا اور کون گناہ بخشتا ہے؟ اور انھوں نے جو کیا اس پر اصرار نہیں کرتے، جب کہ وہ جانتے ہوں۔‘‘ ان آیات بینات میں ظلم کا اطلاق جس کفر پر ہوا ہے وہ کفر اکبر نہیں ہے۔ امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’و سمي الکافر ظالما کما في قولہ تعالی (وَالْكَافِرُونَ هُمُ الظَّالِمُونَ )(البقرۃ: 254) و سمي متعدي حدودہ في النکاح و الطلاق و الرجعۃ و الخلع ظالما، فقال: (وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ)(الطلاق: 1) و قال نبیہ یونس ( لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ )(الأنبیائ: 87) و قال صفیہ آدم (رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا )(الأعراف: 23) و قال کلیمہ موسی: (رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي )(القصص: 16) و لیس ہذا الظلم مثل ذلک الظلم۔‘‘[1] ’’اور کافر کو ظالم کا نام دیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان میں ہے: ’’اور کافر ہی ظالم ہیں۔‘‘ اور نکاح، طلاق، رجوع اور خلع کی حدود سے تجاوز کرنے والے کو بھی ظالم کا نام دیا۔ فرمایا: ’’اور جس نے اللہ کی حدود سے تجاوز کیا تو لازماً اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔‘‘ اور اس کے نبی یونس علیہ السلام نے فرمایا: ’’نہیں کوئی معبود مگر تو ہی، تو پاک ہے بے شک میں ظلم کرنے والوں میں سے ہوں۔‘‘ اور اللہ کے صفی آدم علیہ السلام نے کہا: ’’اے ہمارے رب ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔‘‘ اور اللہ کے کلیم موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ’’اے میرے رب بلاشبہ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا تو مجھے معاف کر دے۔‘‘ اور یہ ظلم اس ظلم جیسا نہیں ہے۔‘‘ امام محمد بن نصر المروزی نے لکھا ہے: ’’قد یسمی الکافر ظالما و یسمی العاصي من المسلمین ظالما فظلم ینقل عن ملۃ الإسلام و ظلم لا ینقل۔‘‘[2] [1] ) کتاب الصلوٰۃ و حکم تارکہا ، ص: 54۔ [2] ) کتاب الصلاۃ، ص: 168۔