کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 65
تیری طرف کان لگاتے ہیں اور جب وہ سرگوشیاں کرتے ہیں، جب وہ ظالم کہہ رہے ہوتے ہیں کہ تم پیروی نہیں کرتے مگر ایسے آدمی کی جس پر جادو کیا گیا ہے۔‘‘ یہاں اللہ تعالیٰ نے ظلم کا اطلاق کفر پر کیا ہے اور آیات کفار قریش کے بارے میں نازل ہوئیں۔ امام بغوی رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’اس آیت میں ظالموں سے مراد ولید بن مغیرہ اور اس کے ساتھی ہیں۔‘‘[1] امام ابن کثیر فرماتے ہیں: ’’یخبر تعالی نبیہ -صلوات اللّٰہ و سلامہ علیہ- بما تناجي بہ رؤساء کفار قریش، حین جاء وا یستمعون قراء ۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰه علیہ وسلم سرا من قومہم، بما قالوا من أنہ رجل مسحور۔‘[2] ’’اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلوات اللہ و سلامہ علیہ کو اس چیز کی خبر دے رہا ہے جو قریش کے کافروں کے سردار آپس میں سرگوشی کرتے ہوئے کہتے تھے جس وقت وہ اپنی قوم سے چھپ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراء ت کان لگا کر سننے آتے تھے۔‘‘ 3 اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: وَلَا تُخَاطِبْنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا إِنَّهُمْ مُغْرَقُونَ - فَإِذَا اسْتَوَيْتَ أَنْتَ وَمَنْ مَعَكَ عَلَى الْفُلْكِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي نَجَّانَا مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ (المومنون: 27-28) ’’اور مجھ سے ان کے بارے میں بات نہ کرنا جنھوں نے ظلم کیا ہے، وہ یقینا غرق کیے جانے والے ہیں۔ پھر جب تو اور جو تیرے ساتھ ہیں، کشتی پر چڑھ جائو تو کہہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں ظالم لوگوں سے نجات دی۔‘‘اس آیت میں بھی ظالموں سے مراد کفار ہیں۔ 4 ایک اور مقام پر فرمایا: ( وَالْكَافِرُونَ هُمُ الظَّالِمُونَ ) (البقرۃ: 254) ’’اور کافر ہی ظالم ہیں۔‘‘ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: [1] ) تفسیر بغوي: 3/118۔ [2] ) تفسیر ابن کثیر: 4/151۔ بتحقیق عبدالرزاق المہدي۔