کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 64
لفظ ’’ظلم‘‘ کا کفر پر اطلاق: بہت ساری آیات میں ظلم کا کفر پر اطلاق کیا گیا ہے: 1 ارشاد باری تعالیٰ ہے: (وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَى يَدَيْهِ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا )لفرقان: 27) ’’اور جس دن ظالم اپنے دونوں ہاتھ دانتوں سے کاٹے گا، کہے گا اے کاش! میں رسول کے ساتھ کچھ راستہ اختیار کرتا۔‘‘ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’فلا ریب أن ہذا یتناول الکافر الذي لم یؤمن بالرسول و سبب نزول الآیۃ کان في ذلک فإن ’’الظلم المطلق‘‘ یتناول ذلک و یتناول ما دونہ بحسبہ۔‘‘[1] ’’سو اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اس کافر کو شامل ہے جو رسول اللہ پر ایمان نہیں لایا اور آیت کا سبب نزول بھی اس کے بارے میں تھا تو بلاشبہ ’’الظلم المطلق‘‘ کفر اور اس کے علاوہ کو بھی اسی کے حساب سے شامل ہے۔‘‘ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: ’’أن الظلم المطلق یتناول الکفر و لا یختص بالکفر، بل یتناول ما دونہ أیضا و کل بحسبہ کلفظ ’’الذنب‘‘ و ’’الخطیئۃ‘‘ و ’’المعصیۃ‘‘۔ فإن ہذا یتناول الکفر و الفسوق و العصیان۔‘‘[2] ’’بلاشبہ ظلم مطلق کفر کو بھی شامل ہے اور کفر کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ کفر سے چھوٹے گناہوں کو بھی اسی طرح شامل ہے اور ہر کوئی اپنے حساب سے ہے جیسے لفظ ’’ذنب‘‘، ’’خطیئۃ‘‘ اور ’’معصیۃ‘‘ کفر، فسق اور عصیان سب کو شامل ہے۔‘‘ 2 ارشاد باری تعالیٰ ہے: نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَسْتَمِعُونَ بِهِ إِذْ يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ وَإِذْ هُمْ نَجْوَى إِذْ يَقُولُ الظَّالِمُونَ إِنْ تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَسْحُورًا (بني إسرائیل: 47) ’’ہم اس (نیت) کو زیادہ جاننے والے ہیں جس کے ساتھ وہ اسے غور سے سنتے ہیں، جب وہ [1] ) مجموع الفتاوی لإبن تیمیۃ: 7/73۔ [2] ) مجموع الفتاوی لابن تیمیۃ: 7/72۔