کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 62
پھر شرح میں امام نووی لکھتے ہیں: ’’إن الشرک و الکفر قد یطلقان بمعنی واحد و ہو الکفر باللّٰہ تعالی، و قد یفرق بینہما۔‘‘[1] ’’بلاشبہ شرک اور کفر بسا اوقات ایک معنی میں ہوتے ہیں اور وہ اللہ کے ساتھ کفر کرنا ہے اور بسا اوقات دونوں کے درمیان فرق بھی کیا جاتا ہے۔‘‘ تارک صلاۃ کے کافر ہونے میں اختلاف: ترک صلاۃ پر جو حدیث میں لفظ ’’کفر‘‘ وارد ہوا ہے اس میں علماء کے ہاں اختلاف پایا جاتا ہے کہ کیا یہ کفر اکبر ہے یا کفر اصغر ہے جو علماء تارک صلاۃ کو کافر سمجھتے ہیں ان کے نزدیک یہ کفر اکبر ہے اور جو اسے کافر نہیں سمجھتے ان کے نزدیک کفر اصغر ہے۔ امام قرطبی لکھتے ہیں: ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: ((بین الرجل و بین الشرک و الکفر ترک الصلاۃ۔)) کا مطلب یہ ہے کہ جس نے نماز ترک کی اس کے اور کفر کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں جو اسے روکے اور نہ کوئی مانع ہے جو اسے منع کرے یعنی وہ کافر ہو گیا ہے۔ اس شخص کے کافر ہونے پر اتفاق ہے جو نماز کے وجوب کا منکر ہے اور اگر نماز کے وجوب کا معترف ہے اور عملاً سست ہے اور اسے ترک کرنے والا ہے تو جمہور کے ہاں اسے قتل کیا جائے گا جب وہ نماز کو اس کے آخری وقت سے خارج کر دے اور ادا نہ کرے۔‘‘ پھر یہ اختلاف ہے کہ تارک صلاۃ کو بطور کفر قتل کیا جائے گا یا بطور حد جو پہلے مذہب کی طرف گئے ہیں وہ امام احمد بن حنبل، امام عبداللہ بن المبارک، امام اسحاق بن راہویہ اور ہمارے اصحاب میں سے عبدالملک بن حبیب ہیں اور یہ بات علی رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کی گئی ہے۔ اور جو دوسرے مذہب کی طرف گئے ہیں (یعنی تارک صلاۃ کو بطور کفر نہیں بلکہ بطور حد قتل کیا جائے گا) تو ان میں سے امام مالک، امام شافعی اور بہت سارے اہل علم ہیں جنہوں نے کہا: جب اس پر نماز پیش کی جائے اور وہ ادا نہ کرے تو بطور حد اسے قتل کیا جائے گا۔ پھر کیا تارک صلاۃ سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا یا نہیں؟ ہمارے اصحاب کے اس کے بارے میں دو قول ہیں اور اہل کوفہ نے کہا ہے قتل نہیں کیا جائے گا [1] ) شرح صحیح مسلم: 2/71۔