کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 61
’’اس سے اللہ تعالیٰ نے وہ کافر مراد لیا ہے جب وہ ہلاک ہو گیا اور اس کی دنیا اس سے زائل ہو کر رہ گئی ہے اور وہ اپنے عمل کے ساتھ منفرد ہوا اس نے پسند کیا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کفر نہ کیا ہوتا اور نہ ہی اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک کیا ہوتا۔‘‘ امام ابو عبداللہ محمد بن احمد القرطبی (المتوفی 671ھ) لکھتے ہیں: ’’أي یا لیتني عرفت نعم اللّٰہ علي، و عرفت أنہا کانت بقدرۃ اللّٰہ و لم أکفر بہ، و ہذا ندم منہ حین لا ینفعہ الندم۔‘‘[1] ’’اے کاش میں نے اپنے اوپر اللہ کی نعمتوں کو پہچانا ہوتا اور میں نے پہچانا ہوتا کہ وہ اللہ کی قدرت سے ہوا اور میں نے اس کے ساتھ کفر نہ کیا ہوتا اور یہ اس کی طرف سے ندامت تھی۔‘‘لیکن اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ اور کتاب و سنت میں اس کی مثال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث ہے جو جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إن بین الرجل و بین الشرک و الکفر ترک الصلاۃ۔))[2]’’بلاشبہ آدمی اور شرک و کفر کے درمیان فرق نماز کا ترک کرنا ہے۔‘‘ اسی طرح یزید الرقاشی انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں: ((لیس بین العبد و الشرک الا ترک الصلاۃ فإذا ترکہا فقد اشرک۔))[3] ’’نہیں ہے بندے اور شرک کے درمیان فرق مگر نماز کا ترک کرنا پھر جب وہ نماز ترک کر دیتا ہے تو یقینا اس نے شرک کیا۔‘‘ اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک کا اطلاق کفر پر کیا ہے صحیح مسلم میں اس پر امام نووی نے یوں باب باندھا ہے: ’’بیان إطلاق إسم الکفر علی من ترک الصلاۃ۔‘‘ یعنی ’’جس شخص نے نماز تک کی اس پر لفظ کفر کا اطلاق کرنا۔‘‘ [1] ) مختصر تفسیر القرطبي: 3/23، ط: دار الکتب العلمیۃ، اختصرہ الشیخ عرفان حسونۃ۔ [2] ) صحیح مسلم، کتاب الإیمان: 134/82۔ سنن الترمذي: 2619۔ مسند أحمد: 23/365، رقم: 15183۔ [3] ) سنن ابن ماجہ: 1080۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح ابن ماجہ میں صحیح قرار دیا ہے جبکہ اس کی سند میں یزید بن ابان الرقاشی ضعیف ہے۔ یاد رہے کہ شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے جیسا کہ اوپر جابر والی حدیث اس کا قوی شاہد ہے۔