کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 60
نتیجہ درست نہیں نکل سکتا اور ان اطلاقات کی ہر نوع پر ادلّہ ملاحظہ کریں۔ لفظ ’’شرک‘‘ پر کفر کا اطلاق: اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں دو باغوں کے مالک کی خبر دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ( وَأُحِيطَ بِثَمَرِهِ فَأَصْبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيْهِ عَلَى مَا أَنْفَقَ فِيهَا وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا وَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي لَمْ أُشْرِكْ بِرَبِّي أَحَدًا )(الکہف: 42) ’’اور اس کا سارا پھل مارا گیا تو اس نے اس حال میں صبح کی کہ اپنی ہتھیلیاں ملتا تھا اس پر جو اس میں خرچ کیا تھا اور وہ اپنی چھتوں سمیت گرا ہوا تھا اور کہتا تھا اے کاش! میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا۔‘‘ اس آیت میں لفظ ’’شرک‘‘ کا اطلاق کفر پر کیا گیا ہے اس لیے کہ اس باغ والے آدمی کا کام کفر کے قبیل سے تھا جیسا کہ خود اللہ عزوجل نے اس کے بارے میں خبر دی ہے: ( وَدَخَلَ جَنَّتَهُ وَهُوَ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ قَالَ مَا أَظُنُّ أَنْ تَبِيدَ هَذِهِ أَبَدًا (35) وَمَا أَظُنُّ السَّاعَةَ قَائِمَةً وَلَئِنْ رُدِدْتُ إِلَى رَبِّي لَأَجِدَنَّ خَيْرًا مِنْهَا مُنْقَلَبًا ) (الکہف: 35-36) ’’اور وہ اپنے باغ میں اس حال میں داخل ہوا کہ وہ اپنی جان پر ظلم کرنے والا تھا، کہا میں گمان نہیں کرتا کہ یہ کبھی برباد ہوگا۔ اور نہ میں قیامت کو گمان کرتا ہوں کہ قائم ہونے والی ہے۔‘‘ اور جو کچھ اس سے صادر ہوا وہ کفر ہی تھا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں فرمایا کہ اس کا ساتھی اس کو کہنے لگا: (اَكَفَرْتَ بِالَّذِي خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ سَوَّاكَ رَجُلاً) (الکہف: 37) ’’کیا تو نے اس کے ساتھ کفر کیا جس نے تجھے حقیر مٹی سے پیدا کیا، پھر ایک قطرے سے، پھر تجھے ٹھیک ٹھاک ایک آدمی بنا دیا۔‘‘ اسی لیے علماء نے آیت میں ’’شرک‘‘ والے لفظ کا معنی ’’کفر‘‘ بیان کیا ہے۔ امام المفسرین محمد بن جریر طبری اللہ کے اس فرمان(وَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي لَمْ أُشْرِكْ بِرَبِّي أَحَدً) (الکہف: 42) کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’’یعني بذلک: ہذا الکافر إذا ہلک و زالت عنہ دنیاہ و انفرد بعملہ، ودّ أنہ لم یکن کفر باللّٰہ و لا أشرک بہ شیئا۔‘‘[1] [1] ) تفسیر الطبري: 15/268۔