کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 59
((من أتی حائضا أو امرأۃ في دبرہا أو کاہنا فقد کفر بما أنزل علی محمد صلی اللّٰه علیہ وسلم ۔))[1] ’’جو شخص حائضہ عورت کے پاس آیا یا عورت کی دبرمیں آیا یا نجومی کے پاس آیا تو بلاشبہ یقینا اس نے اس چیز کے ساتھ کفر کیا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی۔‘‘ مذکورہ بالا احادیث میں لفظ کفر کا اطلاق کفر اصغر پر کیا گیا ہے۔ حالت حیض میں عورت کے ساتھ صحبت کرنا یا دبر میں وطی کرنا یا مسلمان کے ساتھ لڑنا ایسے گناہ ہیں جن پر لفظ کفر بولا گیا ہے ان افعال کا مرتکب ناقص الایمان مسلمان ہے ایسا کفار نہیں جو ملت اسلامیہ سے خارج ہے۔ لفظ کفر پر دیگر الفاظ کا اطلاق نصوص شرعیہ میں لفظ کفر پر کئی الفاظ بولے جاتے ہیں کبھی لفظ کفر کی تعبیر شرک سے، کبھی ظلم سے اور کبھی فسق سے کی جاتی ہے اور پیچھے سورۃ المائدۃ کی آیت نمبر 44 کی تفسیر کے تحت بعض اسلاف اور کبار محدثین و مفسرین کی تصریحات گزر چکی ہیں کہ اس سے مراد کفر دون کفر، ظلم دون ظلم اور فسق دون فسق مراد ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفر، ظلم اور فسق میں سے ہر ایک دو قسموں پر مشتمل ہے کفر اکبر و کفر اصغر، ظلم اکبر و ظلم اصغر اور فسق اکبر و فسق اصغر۔ امام احمد بن نصر المروزی فرماتے ہیں: ’’فکما کان الظلم ظلمین و الفسوق فسقین کذلک الکفر کفران احدہما یتقل عن الملۃ و الآخر لا ینقل عنہا فکذلک الشرک شرکان شرک فی التوحید ینقل عن الملۃ و شرک فی العمل لا ینقل عن الملۃ و ہو الریائ۔‘‘[2] ’’پس جس طرح ظلم دو طرح کا ہے اور فسق دو طرح کا ہے اسی طرح کفر بھی دو طرح کا ہے ان میں سے ایک ملت سے خارج کر دیتا ہے اور دوسرا ملت سے خارج کرنے والا نہیں ہے اسی طرح شرک بھی دو طرح کا ہے ایک اللہ کی توحید میں شرک جو ملت سے خارج کر دیتا ہے اور دوسرا عمل میں شرک وہ ملت سے خارج نہیں کرتا اور وہ ریاکاری ہے۔‘‘ ہر مقام پر غور و خوض کر کے فیصلہ اخذ کرنا چاہیے کہ کون سا کفر و شرک اور ظلم و فسق ملت سے خارج کرتا ہے اور کون سا نہیں۔ کیونکہ نصوص شرعیہ میں کفر پر شرک، ظلم اور فسق کا اطلاق کیا گیا اور اس کی تعبیر صحیح کے بغیر [1] ) سنن ترمذي: 135۔ سنن أبي داود: 3904۔ [2] ) کتاب الصلاۃ، ص: 170، ط: دار الکتب العلمیۃ۔