کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 58
تمہارے لیے ویل ہے یا تم پر افسوس ہے، تم میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ بعض تمہارے بعض کی گردنیں مارنے لگ جائیں۔‘‘ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’فقولہ ((یضرب بعضکم رقاب بعض)) تفسیر الکفار في ہذا الموضع، و ہؤلاء یسمون کفارا تسمیۃ مقیدۃ، و لا یدخلون في الاسم المطلق إذا قیل: کافر و مؤمن۔‘‘[1] ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: ’’بعض تمہارے بعض کی گردنیں مارنے لگیں‘‘ اس مقام پر کفار کی تفسیر یہ ہے کہ ان لوگوں کو کفار کو نام جو دیا گیا یہ مقید نام ہے اسم المطلق میں داخل نہیں جب کہا جاتا ہے کافر اور مومن۔‘‘ 3 ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لا ترغبوا عن آبائکم فمن رغب عن أبیہ فہو کفر۔))[2]’’اپنے باپوں سے بے رغبتی نہ کرو سو جس نے اپنے باپ سے بے رغبتی کی تو یہ کفر ہے۔‘‘ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے بعض علماء سے اس کی شرح نقل کی ہے: ’’و لیس المراد بالکفر حقیقۃ الکفر التی یخلد صاحبہا فی النار۔‘‘[3] اور یہاں پر کفر سے مراد کفر حقیقی ہرگز نہیں جس کا مرتکب ہمیشہ کے لیے جہنمی ہو جاتا ہے۔‘‘ 4 عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((سباب المسلم فسوق و قتالہ کفر۔))[4]’’مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس کے ساتھ لڑنا کفر ہے۔‘‘ 5 ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [1] ) اقتضاء الصراط المستقیم: 1/212، بتحقیق دکتور ناصر عبدالکریم العقل، ط: مکتبۃ الرشد الریاض۔ [2] ) صحیح البخاري، کتاب الفرائض: 6768۔ صحیح مسلم: 62۔ [3] ) فتح الباري: 15/503۔ [4] ) صحیح البخاري: 47، 6044، 7076۔ الأدب المفرد: 431۔ صحیح مسلم: 133، 134۔ سنن إبن ماجہ: 69، 3939۔ سنن الترمذي: 1983، 2635۔ سنن الکبری للنسائي: 3561، 3562، 3563۔ مسند الحمیدي: 104۔ الابانۃ لإبن بطۃ: 998، 999، 1000۔ مسند أحمد: 6/157، رقم: 3647۔ مسند الشاشي: 582، 583۔ صحیح إبن حبان: 5939۔ شرح السنۃ للبغوي: 3548