کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 57
منک شیئا قالت ما رأیت منک خیرا قط۔))[1] ’’مجھے آگ دکھلائی گئی تو اچانک دیکھا کہ اس میں اکثر عورتیں ہیں جو کفر کرتی ہیں۔ کہا گیا: کیا اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں؟ فرمایا: ’’وہ خاوندوں اور احسان کے ساتھ کفر کرتی ہیں اگر تو ان میں سے کسی ایک کی طرف لمبا زمانہ احسان کرتا رہے پھر وہ تجھ میں کوئی چیز دیکھ لے تو کہہ دیتی ہے: میں نے تجھ میں کبھی بھی خیر نہیں دیکھی۔‘‘ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’لا یطلق علیہا الکفر لکنہ کفر لا یخرج عن الملۃ۔‘‘[2] ’’عورت کی نافرمانی پر کفر کا اطلاق کیا گیا ہے لیکن یہ ایسا کفر ہے جو ملت اسلامیہ سے خارج نہیں کرتا۔‘‘ امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی اس پر شوہروں کے ساتھ کفر اور کفر دونوں کفر کا باب باندھا ہے:صحیح مسلم کی شرح میں امام نووی نے اس حدیث پر یوں تبویب قائم کی ہے: ’’ اب بیان نقصان الإیمان بنقص الطاعات و بیان إطلاق لفظ الکفر علی غیر الکفر باللّٰہ ککفر النعمۃ و الحقوق۔‘‘[3] ’’اطاعات کی کمی کے ساتھ ایمان کی کمی کا بیان اور لفظ کفر کا اطلاق اللہ ے ساتھ کفر کے علاوہ پر کرنا جیسا کہ نعمت اور حقوق کا کفر۔‘‘ امام ابن عبدالبر رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں:’’فأطلق علیہن اسم الکفر لکفرہن العشیر و الإحسان و قد یسمی کافر النعمۃ کافرا۔‘‘[4] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان عورتوں پر لفظ کفر کا اطلاق ان کے شوہروں اور احسان کے ساتھ کفر کرنے کی وجہ سے کیا ہے اور کبھی کفرانِ نعمت کرنے والے پر کافر ہونے کا نام لیا جاتا ہے۔‘‘ 2 عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((ویلکم أو ویحکم لا ترجعوا بعدي کفارا یضرب بعضکم رقاب بعض۔))[5] [1] ) صحیح البخاري، کتاب الإیمان، باب کفران العشیر و کفر دون کفر: 29ِ صحیح مسلم، رقم: 884۔ [2] ) فتح الباري: 1/156۔ [3] ) شرح صحیح مسلم: 2/165۔ [4] ) التمہید لإبن عبدالبر: 23/295۔ [5] ) صحیح البخاري، کتاب الأدب: 6166۔ صحیح مسلم: 66۔