کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 56
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ’’و قال ابن عباس و غیر واحد من السلف في قولہ تعالٰی( وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ )و(فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُوْنَ) و (الظَّالِمُونَ) ک فر دون کفر و فسق دون فسق و ظلم دون ظلم و قد ذکر ذلک أحمد و البخاري و غیرہما۔‘‘[1] ’’عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور بہت سارے سلف صالحین نے اللہ کے فرمان ( وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ )و(فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُوْنَ) و (الظَّالِمُونَ) کے بارے میں کہا ہے: یہ کفر دون کفر، فسق دون فسق اور ظلم دون ظلم ہیں اور یہ بات امام احمد بن حنبل اور امام بخاری وغیرہما نے بیان کی ہے۔‘‘ نوٹ:… ائمہ دین نے جو ان آیات کو تحکیم بغیر ما انزل اللہ کے تحت ذکر کیا ہے اس سے مراد کفر اصغر لیا ہے یہ ایسے شخص کے حق میں ہے جو اپنی خواہش نفس کی پیروی کرتے ہوئے یا رشوت لے کر فیصلہ کرے یا کسی سے عداوت کرتے ہوئے فیصلہ کرے اور اپنے پتا ہو کہ وہ اللہ کی نافرمانی کر رہا ہے لیکن جو اللہ کے دین کے علاوہ کسی قانون کے ساتھ فیصلہ کرنا حلال سمجھتا ہو، یا اس کا اعتقاد ہو کہ اس کا حکم اللہ کے حکم کے مساوی یا اس سے افضل ہے تو یہ ایسا کفر ہے جو ملت سے خارج کرنے والا ہے۔ امام ابن الجوزی اپنی تفسیر ’’زاد المسیر‘‘ میں، امام ابن تیمیہ ’’منہاج السنۃ‘‘ میں، امام ابن القیم نے ’’مدارج السالکین‘‘ میں، علامہ محمد امین الشنقیطی نے ’’تفسیر اضواء البیان‘‘ میں اور سعودی کبار علماء کی ’’فتاوی اللجنۃ الدائمۃ‘‘ نے اسے بیان کیا ہے۔ احادیث نبویہ اور کفر اصغر اور اسی طرح احادیث نبویہ میں اکثر مقامات پر لفظ کفر کا اطلاق کفر اصغر پر کیا گیا ہے جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں: 1 عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أریت النار فإذا أکثر أہلہا النساء یکفرن۔)) قیل أیکفرن باللّٰہ؟ قال: ((یکفرن العشیر و یکفرن الإحسان لو أحسنت إلی إحداہن الدہر ثم رأت [1] ) مجموع الفتاوی لابن تیمیۃ: 7/522۔