کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 55
امام محمد بن نصر المروزی (المتوفی 294ھ) فرماتے ہیں: ’’قلنا إن ترک التصدیق کفر بہ و إن ترک الفرائض مع تصدیق اللّٰہ أنہ أوجبہا کفر لیس بکفر باللّٰہ إنما ہو کفر من جہۃ ترک الحق کما یقول القائل کفرتنی حقي و نعمتي یرید ضیعت حقي و ضیعت شکر نعمتي قالوا: و لنا في ہذا قدوۃ بمن روي عنہم من أصحاب رسول اللّٰہ صلی اللّٰه علیہ وسلم و التابعین إذ جعلوا للکفر فروعا دون أصلہ لا تنقل صاحبہ عن ملۃ الإسلام کما ثبتوا للإیمان من جہۃ العمل فرعا للأصل لا ینقل ترکہ عن ملۃ الإسلام من ذلک قول إبن عباس فی قولہ: ( وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ ) (المائدہ:44) ‘‘[1] ’’بلاشبہ تصدیق کو ترک کرنا اس کے ساتھ کفر ہے اور اللہ کی تصدیق کے ساتھ فرائض ترک کرنا جن کو اس نے واجب قرار دیا، کفر ہے لیکن یہ اللہ کے ساتھ کفر کی طرح نہیں ہے یہ ترکِ حق کی جہت سے کفر ہے جیسا کہ کہنے والا کہتا ہے: ’’کفرتنی حقي و نعمتي‘‘ اس سے مراد تو نے میرا حق ضائع کر دیا اور میری نعمت کا شکر برباد کر دیا۔ انہوں نے کہا: ہمارے لیے اس بات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام اور تابعین عظام نمونہ ہیں جبکہ انہوں نے اصل کے علاوہ کفر کی فروعات بنائی ہیں جو کفر کے مرتکب کو ملت اسلامیہ سے خارج نہیں کرتیں جیسا کہ عمل کی جہت سے انہوں نے ایمان کے لیے اصل کے علاوہ فروعات ثابت کی ہیں جو تارک عمل کو ملت اسلام سے خارج نہیں کرتیں اسی میں سے اللہ کے اس فرمان ( وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ )کے بارے میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے۔ اسی طرح امام ابو عبداللہ عبید اللہ بن محمد المعروف بابن بطہ (المتوفی 387ھ) نے اپنی معروف و مشہور کتاب ’’الابانۃ عن شریعۃ الفرقۃ الناجیۃ‘‘ (2/162، ط الفاروق الحدیثیۃ) میں ایک باب یوں قائم کیا ہے: ’’باب ذکر الذنوب التي تصیر بصاحبہا الی کفر غیر خارج عن الملۃ‘‘ ان گناہوں کا بیان جو ان کے مرتکب کو ایسے کفر کی طرف لے جاتے ہیں جو ملت سے خارج کرنے والے نہیں ہیں۔ پھر اس کے ضمن میں عبداللہ بن عباس، طائوس اور عطاء بن ابی رباح کے اقوال لائے ہیں جو ( وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ )کی تفسیر میں مروی ہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت سے انہوں نے ایسا کفر مراد لیا ہے جو ملت سے خارج کرنے والا نہیں ہے۔ [1] ) کتاب الصلاۃ، ص: 167۔