کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 54
’’و حقہما أن یقولا: علی شرط الشیخین فإن إسنادہ کذلک ثم رأیت الحافظ إبن کثیر نقل في تفسیرہ (6/163) عن الحاکم أنہ قال: ’’صحیح علی شرط الشیخین‘‘ فالظاہر أن في نسخۃ ’’المسترک‘‘ المطبوعۃ سقطا۔‘‘[1] ’’امام حاکم اور امام ذہبی دونوں کا حق تھا کہ یوں کہتے: یہ روایت شیخین کی شرط پر صحیح ہے تو بلاشبہ اس کی سند اس طرح ہے پھر میں نے حافظ ابن کثیر کو دیکھا انہوں نے اپنی تفسیر میں امام حاکم سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا: یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے تو ظاہر یہ ہے کہ مستدرک کے مطبوعہ نسخے میں سقط ہے۔‘‘ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ایک اور روایت کے الفاظ یوں ہیں: ’’ہي بہ کفر و لیس کفرا باللّٰہ و ملائکتہ و کتبہ و رسلہ۔‘‘[2] ’’یہ کفر ہے اور یہ اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر نہیں ہے۔‘‘ ایک اور وایت میں ہے: ’’لیس کمن کفر باللّٰہ و ملائکتہ و رسلہ۔‘‘ ’’یہ اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کی طرح نہیں ہے۔‘‘ اور عطاء بن ابی رباح، طائوس وغیرہما سے بھی یہی تفسیر مروی ہے جس کی مکمل تفصیل فضیلۃ الشیخ سلیم بن عید الہلالی کی بڑی شاندار کتاب ’’قرۃ العیون‘‘ میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی اس تفسیر کو امام حاکم، امام احمد بن حنبل، امام ذہبی، امام ابن کثیر، امام طبری، امام مروزی، امام سمعانی، امام بغوی، امام ابو بکر ابن العربی، امام قرطبی، امام بقاعی، امام واحدی، امام ابو عبید قاسم بن سلام، امام ابو حیان اندلسی، امام ابن بطہ، امام ابن عبدالبر، امام خازن، علامہ جمال الدین قاسمی، علامہ عبدالرحمن بن ناصر السعدی، امام ابن تیمیہ، امام ابن القیم، نواب صدیق الحسن خان، علامہ شنقیطی، علامہ البانی وغیرہم جیسے جہابذہ مفسرین و محدثین اور فقہاء نے صحیح قرار دیا ہے اور قبول کیا ہے۔ یہاں پر چند حوالے ذکر کرتا ہوں باقی تفسیر و تفصیل اپنے مقام پر بیان ہو گی، ان شاء اللہ۔ [1] ) سلسلۃالاحادیث الصحیحۃ: 4/113۔ [2] ) تفسیر الطبري: 8/465۔ السنۃ للخلال: 4/158-159، رقم: 1414۔ کتاب الصلاۃ لمحمد بن نصر المروزي: 571-572۔ الابانۃ لإبن بطۃ: 2/172، رقم: 1020۔ تفسیر عبدالرزاق: 2/19، رقم: 713۔ تفسیر سفیان ثوري، ص: 101۔ تفسیر إبن أبي حاتم: 3/7۔