کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 53
4 ( وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ )(المائدۃ: 44)’’اور جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہی لوگ کافر ہیں۔‘‘ امام المفسرین محمد بن جریر طبری اس آیت کریمہ کے شان نزول کے بارے اختلاف ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ’’و قال آخرون: بل عنی بذلک کفر دون کفر، و ظلم دون ظلم، و فسق دون فسق۔‘‘[1] ’’دوسرے مفسرین نے کہا ہے بلکہ اس سے مراد ایک کفر کا (اپنے درجہ میں) دوسرے کفر سے کم ہونا، ایک ظلم کا دوسرے ظلم سے کم ہونا اور ایک فسق کا دوسرے فسق سے کم ہونا مراد لیا گیا ہے۔‘‘ پھر اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، تابعین عظام وغیرہم کی روایات بیان کریں گے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما اور آیت حکیم: سب سے پہلے ہم ترجمان القرآن حبر الامۃ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کی تفسیر درج کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں: ’’لیس بالکفر الذي تذہبون إلیہ۔‘‘’’یہ ہرگز وہ کفر نہیں ہے جس کی طرف تم جا رہے ہو۔‘‘ دوسری روایت میں ہے: ’’إنہ لیس بالکفر الذي یذہبون اإلیہ إنہ لیس کفر ینقل عن الملۃ( وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ ) کفر دون کفر۔‘‘[2] ’’بلاشبہ یہ ہرگز وہ کفر نہیں ہے جس کی طرف وہ جاتے ہیں، بلاشبہ یہ ملت اسلامیہ سے خارج کرنے والا کفر نہیں ہے … ’’اور جس نے اللہ کی نازل کردہ دین کے مطابق فیصلہ نہ کیا تو وہی لوگ کافر ہیں۔‘‘ … یہ کفر دون کفر ہے یعنی یہ کفر دوسرے کفر سے درجے میں کم ہے۔‘‘ شیخ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: [1] ) تفسیر الطبري: 8/464۔ [2] ) الابانۃ لابن بطۃ: 2/172، رقم: 1021۔ السنن الکبری للبیہقي: 8/20، 10/207۔ السنۃ للخلال: 1419۔ سنن سعید بن منصور: 4/1482،رقم: 749۔ کتاب الصلاۃ لمحمد بن نصر المروزي: 569-573۔ تفسیر ابن ابی حاتم: 4/1143، رقم: 6434۔ التمہید: 4/237۔ المستدرک للحاکم: 2/313۔ امام حاکم نے اسے صحیح الاسناد کہا اور امام ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔