کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 51
((إن الکافر یأکل فی سبعۃ أمعائ۔))[1] ’’بلاشبہ کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔‘‘ 11 نافع بیان کرتے ہیں: ’’رای إبن عمر مسکینا فجعل یدنیہ و یضع بین یدیہ فجعل یأکل أکلا کثیرا فقال لي لا تدخلن ہذا علي فإني سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰه علیہ وسلم یقول: ((إن الکافر یأکل في سبعۃ أمعائ۔))‘‘[2] ’’عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک مسکین دیکھا تو اسے قریب کرنے لگے اور اس کے آگے کھا رکھ رہے تھے وہ بہت زیادہ کھانے لگ گیا، تو مجھے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ’’اس کو ہرگز میرے پاس نہ لانا۔‘‘ اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے رہے تھے: ’’بلاشبہ کافر سات انتڑیوں میں کھاتا ہے۔‘‘ 12 ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ’’أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰه علیہ وسلم ضافہ ضیف و ہو کافر فاآمر لہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰه علیہ وسلم بشاۃ فحلبت فشرب حلابہا ثم أخری فشربہ ثم أخری فشربہ حتی شرب حلاب سبع شیاہ ثم إنہ أصبح فأسلم فأمر لہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰه علیہ وسلم بشاۃ فشرب حلابہا ثم أمر بأخری فلم یستتمہا فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰه علیہ وسلم : ((المؤمن یشرب في معی واحد و الکافر یشرب في سبعۃ أمعائ۔))‘‘[3] ’’بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ایک مہمان آیا وہ کافر تھا تو اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا تو اس کا دودھ دوہا گیا تو وہ دودھ پی گیا پھر دوسری کا حکم دیا وہ بھی پی گیا، پھر تیسری کا بھی پی گیا، حتیٰ کہ سات بکریوں کا دودھ پی گیا، پھر اس نے صبح کی اور مسلمان ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے بکری کے دودھ کا حکم دیا تو وہ اس کا دودھ پی گیا پھر دوسری کا حکم دیا وہ اس کو پورا نہ کر سکتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مومن ایک آنت میں [1] ) بخاري، کتاب الأطعمۃ: 5395۔ [2] ) مسند أحمد: 9/61، رقم: 5020۔ صحیح مسلم: 183/2060۔ صحیح البخاري: 5393۔ مسند أبي عوانۃ: 5/426۔ [3] ) صحیح مسلم، کتاب الأشربۃ: 186/2063۔ سنن الترمذي، کتاب الأطعمۃ: 1819۔ المؤطا للمالک: 2/924۔ فتح الباري: 12/314۔