کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 50
((من وحد اللّٰہ تعالی و کفر بما یعبد من دونہ حرم مالہ و دمہ و حسابہ علی اللّٰہ عزوجل۔))[1] ’’جس نے اللہ تعالیٰ کو ایک مانا اور اس کے سوا جن کی عبادت کی جاتی ہے اس کے ساتھ کفر کیا اس کا مال اور خون حرام ہو گیا اور اس کا حساب اللہ عزوجل پر ہے۔‘‘ 9 خباب بن الارت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مکہ میں لوہار تھا تو میں عاص بن وائل کے لیے کام کرتا تھا میرے اس کے ذمہ کئی درہم اکٹھے ہو گئے۔ میں نے آ کر اس سے تقاضا کر دیا تو اس نے کہا: ’’لا أقضیک حتی تکفر بمحمد۔‘‘ ’’میں تجھے اتنی دیر تک ادا نہیں کوں گا حتی کہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کفر کر۔‘‘ میں نے کہا: ’’و اللّٰہ لا أکفر بمحمد صلی اللّٰه علیہ وسلم حتی تموت ثم تبعث۔‘‘ ’’اللہ کی قسم میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہرگز کفر نہیں کروں گا یہاں تک کہ تو مر جائے پھر دوبارہ اٹھایا جائے۔‘‘ اس نے کہا: ’’جب مجھے دوبارہ اٹھایا جائے گا تو میرے لیے مال اور اولاد ہو گی؟‘‘ خباب فرماتے ہیں: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کا ذکر کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کر دیں: (أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لَأُوتَيَنَّ مَالًا وَوَلَدًا) … حتی بلغ … فَرْدًا) (مریم: 77-80) ’’تو کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہمار ی آیات کا انکار کیا اور کہا مجھے ضرور ہی مال اور اولاد دی جائے گی۔‘‘ … یہاں تک کہ آپ {فَرْدًا} تک پہنچے … یعنی (وَيَأْتِينَافَرْدًا)آیت کی تلاوت کی۔‘‘[2] 0 1 عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [1] ) مسند احمد: 25/212، رقم: 15875۔ صحیح مسلم، کتاب الإیمان: 37/23. المعجم الکبیر للطبراني: 8194۔ کتاب الإیمان لابن مندہ: 34۔ صحیح ابن حبان: 171۔ المصنف لإبن أبي شیبۃ: 10/123، 12/375۔ [2] ) مسند احمد: 34/546، رقم: 21068۔ تفسیر عبدالرزاق: 2/13۔ صحیح البخاري: 4733۔ صحیح ابن حبان: 5010۔ صحیح مسلم: 35، 36/2795۔ ترمذی: 3162۔ السنن الکبری للبیہقي: 6/52۔ دلائل النبوۃ: 2/280-281۔