کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 49
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((ما أبدلني اللّٰہ عزوجل خیرا منہا قد آمنت بي إذ کفر بي الناس و صدقتني إذ کذبني الناس و واستني بمالہا إذ حرمني الناس و رزقني اللّٰہ عزوجل ولدہا إذ حرمني أولاد النسائ۔))[1] ’’اللہ نے مجھے اس سے بہتر بدلے میں نہیں دی بلا شبہ وہ مجھ پر اس وقت ایمان لائی جب لوگوں نے میرے ساتھ کفر کیا اور میری تصدیق کی جب مجھے لوگوں نے جھٹلایا اور اس نے مجھے اپنے مال کے ساتھ میری غم گساری کی جب لوگوں نے مجھے محروم کیا اور اللہ عزوجل نے مجھے اس سے اولاد عطا کی جبکہ اس نے مجھے دیگر عورتوں کی اولاد سے محروم رکھا۔‘‘ احادیث مبارکہ میں ’’کفر‘‘ کا لفظ کفر اکبر کے لیے ہے اس لیے کہ اسلام کے بعد کافر ہو جانا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کے ساتھ کفر بھی کفر اکبر ہے جس کا مرتکب دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ 6 بریدہ رضی اللہ عنہ سے ایک طویل حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آداب جنگ سکھاتے ہوئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے کہا: ((أغزوا بسم اللّٰہ في سبیل اللّٰہ قاتلوا من کفر باللّٰہ۔))[2] ’’اللہ کے نام کے ساتھ اللہ کی راہ میں لڑو، اس سے قتال کرو جس نے اللہ کے ساتھ کفر کیا۔‘‘ 7 عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے لشکر روانہ کرتے تھے تو فرماتے: ((أخرجوا بسم اللّٰہ تقاتلون في سبیل اللّٰہ من کفر باللّٰہ لا تغدروا و لا تغلوا و لا تمثلوا و لا تقتلوا الولدان و لا أصحاب الصوامع۔))[3] ’’اللہ کے نام کے ساتھ نکلو، اللہ کی راہ میں اس کے ساتھ قتال کرو جس نے اللہ کے ساتھ کفر کیا، بدعہدی نہ کرو اور مُثلہ نہ کرو اور بچوں اور گرجا گھر والوں کو قتل نہ کرو۔‘‘ 8 ابو مالک الاشجعی اپنے باپ طارق بن اشیم سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم سے فرما رہے تھے: [1] ) مسند احمد: 41/356، رقم: 24864۔ المعجم الکبیر: 23 / (22،21) [2] ) صحیح مسلم کتاب الجہاد و السیر: 3/1730۔ مسند احمد: 38/78، رقم: 22978، 38/136، رقم: 23030۔ [3] ) مسند احمد: 4/461، رقم: 2728۔ مسند أبي یعلی: 2549۔ السنن الکبری للبیہقي: 9/90۔ کشف الأستار عن زوائد البزار: 2/269، رقم: 1677، 2/270، رقم: 1680۔