کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 48
کافر کو نیکی کا بدلہ دنیا میں مل جاتا ہے: 2 انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إن الکافر إذا عمل حسنۃ أطعم بہا طعمۃ من الدنیا و أما المؤمن فإن اللّٰہ یدخر لہ حسناتہ في الآخرۃ و یعقبہ رزقا في الدنیا علی طاعتہ۔))[1] ’’بے شک کافر جب کوئی نیکی کرتا ہے اس کے بدلے میں اسے دنیا میں کھلا دیا جاتا ہے اور مومن کی نیکیاں یقینا اللہ اس کے لیے آخرت میں ذخیرہ کر دیتا ہے اور اس کی اطاعت پر دنیا میں رزق بھی دیتا ہے۔‘‘ قیامت والے دن کافر کو چہرے کے بل اٹھایا جائے گا: 3 ’’عن أنس بن مالک أن رجلا قال: یا رسول اللّٰہ کیف یحشر الکافر علی وجہہ یوم القیامۃ؟ قال: ((ألیس الذي أمشاہ علی رجلیہ في الدنیا قادرا علی أن یمشیہ علی وجہہ یوم القیامۃ؟)) قال قتادۃ بلی و عزۃ ربنا۔‘‘[2] ’’انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا اے اللہ کے رسول! قیامت والے دن کافر کو اس کے چہرے کے بل کیسے اٹھایا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا جس نے اسے دنیا میں پائوں پر چلنے کی توفیق دی ہے وہ اسے قیامت والے دن چہرے کے بل چلانے پر قادر نہیں؟‘‘ قتادہ کہتے ہیں: کیوں نہیں ہمارے رب کی عزت کی قسم!‘‘ 4 معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((إن اللّٰہ لا یقبل توبۃ عبد کفر بعد إسلامہ.))[3] ’’بے شک اللہ کسی ایسے بندے کی توبہ قبول نہیں کرتا جو اسلام لانے کے بعد کافر ہو جائے۔‘‘ 5 ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین خدیجہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کرتے تھے تو اس کی اچھی تعریف کرتے، کہتی ہیں: ایک دن مجھے غیرت آ گئی تو میں نے کہہ دیا کس قدر آپ اس بوڑھی کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔ اللہ نے یقینا آپ کو اس سے بہتر بدلے میں دے دی ہیں۔ [1] ) صحیح مسلم، کتاب الجنۃ و النار باب جزاء المؤمن بحسناتہ فی الدنیا و الآخر و تعجیل حسنات الکافر في الدنیا: 57/2808۔ [2] ) صحیح مسلم: 54/2806۔ صحیح البخاري: 4760، 6523۔ [3] ) مسند احمد: 33/222، رقم: 20018۔ المعجم الکبیر للطبراني، جلد: 19، رقم: 1035۔