کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 46
5 ( وَيَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَسْتَ مُرْسَلًا )(الرعد: 43) ’’اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا،کہتے ہیں تو کسی طرح رسول نہیں ہے۔‘‘ 6 ( وَمَنْ يَتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ)(البقرۃ: 108)’’اور جو کوئی ایمان کے بدلے کفر کو لے لے تو بے شک وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔‘‘ 7 (إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللَّهِ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ ) (البقرۃ: 217) ’’اور تم میں سے جو اپنے دین سے پھر جائے، پھر اس حال میں مرے کہ وہ کافر ہو تو یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہوگئے۔‘‘ 8 (إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ) (آل عمران: 4) ’’شک جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا ان کے لیے بہت سخت عذاب ہے۔‘‘ 9 (إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِمْ مِلْءُ الْأَرْضِ ذَهَبًا وَلَوِ افْتَدَى بِهِ أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ وَمَا لَهُمْ مِنْ نَاصِرِينَ ) (آل عمران: 91) ’’بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور اس حال میں مر گئے کہ وہ کافر تھے، سو ان کے کسی ایک سے زمین بھرنے کے برابر سونا ہرگز قبول نہ کیا جائے گا، خواہ وہ اسے فدیے میں دے۔‘‘ 0 1 ( وَالَّذِينَ كَفَرُوا يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ الطَّاغُوتِ )(النسائ: 76) ’’اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہ باطل معبود کے راستے میں لڑتے ہیں۔‘‘ تلک عشرۃ کامۃ یہ دس آیات بطور مثال ذکر کی ہیں ورنہ اس معنی کی بے شمار آیات قرآن حکیم میں موجود ہیں جن میں کفر کا لفظ ’’کفر اکبر‘‘ پر بولا گیا ہے۔ احادیث صحیحہ سے دلائل: 1 ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مثل المؤمن کمثل خامۃ الزرع یفيء ورقہ من حیث أتتہا الریح تکفئہا فإذا سکنت اعتدلت و کذلک المؤمن یکفأ بالبلاء و مثل الکافر کمثل الأرزۃ صماء معتدلۃ حتی یقصمہا اللّٰہ إذا شائ۔))[1] ’’مومن کی مثال کھیت کے نرم پودے جیسی ہے جدھر کی ہوا چلتی ہے تو اس کے پتے ادھر ہی [1] ) صحیح البخاري، کتاب التوحید: 7466۔ صحیح مسلم: 2809۔