کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 41
ا لعمل ینقسم إلی ما یضاد الإیمان، و إلی ما لا یضادہ، فالسجود للصنم، و الاستہانۃ بالمصحف، و قتل النبي و سبہ؛ یضاد الإیمان، و أما الحکم بغیر ما أنزل اللّٰہ، و ترک الصلاۃ؛ فہو من الکفر العملي قطعا.‘‘ [1] ’’کفر کی دو قسمیں ہیں: کفر عملی، جحود و اعتقاد کا کفر اور عمل کا کفر ایسے امور کی طرف بھی منقسم ہوتا ہے جو ایمان کے منافی ہے اور ایسے امور کی طرف بھی جو ایمان کے منافی نہیں ہے پس بت کو سجدہ کرنا، قرآن پاک کی اہانت، نبی کا قتل اور اسے گالی دینا ایمان کے منافی ہے اور حکم بغیر ما انزل اللہ اور نماز کا ترک قطعی طور پر عملی کفر میں سے ہیں۔‘‘ ایک اور مقام پر رقمطراز ہیں: ’’أن الکفر قسمان: اعتقادي و عملي فالاعتقادي مقرہ القلب و العملي محلہ الجوارح۔‘‘[2] ’’کفر کی دو قسمیں ہیں: اعتقادی، عملی کفر اعتقادی کا محل دل ہے اور کفر عملی کا محل دیگر جوارح اور اعضاء ہیں۔‘‘ بعض نادان لوگوں نے شیخ البانی رحمہ اللہ اور ان کے تلامذہ اور پاکستان میں صحیح سلفی منہج کی داعی جماعۃ الدعوۃ کو بھی ارجاء کی تہمت لگا دی ہے اور خوارج اور ان کے افراخ کا یہ وطیرہ شروع سے ہی رہا ہے کہ وہ اہل السنۃ اہل الحدیث کو مرجئہ کہہ دیتے ہیں۔ خوارج کا اہل السنہ کو مرجئہ کہنا: امام حرب بن اسماعیل الکرمانی (المتوفی 280ھ) نے لکھا ہے کہ: ’’و اما الخوارج فانہم یسمون اہل السنۃ و الجماعۃ ’’مرجئۃ‘‘ و کذبت الخوارج فی قولہم بل ہم المرجئۃ یزعمون انہم علی ایمان و حق دون الناس و من خالفہم کفار.‘‘ [3] ’’خوارج اہل السنۃ و الجماعۃ کو ’’مرجئہ‘‘ کا نام دیتے ہیں اور خوارج اپنی بات میں جھوٹے ہیں بلکہ وہی مرجئہ ہی جو سمجھتے ہیں کہ وہ ایمان اور حق پر ہیں اور ان کے مخالف تمام لوگ کفار ہیں۔‘‘ العیاذ باللہ [1] ) السلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ: 7/134 القسم الاول. [2] ) السلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ: 6/112، القسم الأول. [3] ) السنۃ، رقم: 117، ص: 64.