کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 40
خلاصۃ القول یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ تعالیٰ یا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں کسی قسم کا نقص یا عیب یا کسی ایسے عقیدہ کی نسبت ان کی طرف کرنا جو واضح تعلیمات اسلام سے ٹکرائے جیسے یہ عقیدہ کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں یا اللہ تعالیٰ کی صفات کو مخلوق کی صفات جیسا سمجھنا وغیرہ۔ دوم … کفر قولی: جیسے اللہ اور اس کے رسول کو برا بھلا کہنا یا قرآن مجید یا فرشتوں اور دین اسلام کو برا بھلا کہنا اور ان میں سے کسی ایک چیز کے ساتھ استہزاء اور مذاق کرنا خواہ وہ کسی بھی نیت سے ہو۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَلتوبۃ: 65) ’’اور بلاشبہ اگر تو ان سے پوچھے تو ضرور ہی کہیں گے ہم تو صرف شغل کی بات کر رہے تھے اور دل لگی کر رہے تھے۔ کہہ دے کیا تم اللہ اور اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ مذاق کر رہے تھے؟‘‘ان آیات کا شان نزول وہ منافقین تھے جو آیات الٰہی کا مذاق اڑاتے اور مومنین سے استہزاء کرتے حتیٰ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ کلمات سے بھی گریز نہ کرتے اور اس کی اطلاع ملنے پر جب ان سے دریافت کیا جاتا تو صاف مکر جاتے کہ ہم تو یوں ہی آپس میں ہنسی مذاق کر رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہنسی مذاق کے لیے کیا تمہارے سامنے اللہ اور اس کے رسول ہی رہ گئے ہیں … الخ۔[1] سوم … کفر عملی: جیسے کسی بت یا چاند، سورج یا قبر کو سجدہ کرنا وغیرہ یعنی وہ اعمال جو واضح طور پر قرآن مجید اور احادیث صحیحہ سے ٹکرائیں اور جن کی ممانعت وارد ہوئی ہے ان کا کرنا کفر عملی ہے۔ امام ابن قیم رحمہ اللہ کے نزدیک اقسام کفر شیخ البانی رحمہ اللہ امام ابن القیم کے حوالے سے لکھتے ہیں:’’لقد أفاد رحمہ اللّٰه علیہ أن الکفر نوعان: کفر عمل، و کفر جحود و اعتقاد، و أن کفر [1] ) دیکھیں: فتح القدیر للشکو کانی تفسیر سورۃ التوبۃ، آیت: 65 ، /2377، ط: دار إحياء التراث العربي- تفسير ابن كثير سورة التوبة، آيت: 65 ،3 /405، بتحقيق عبدالرزاق المهدي.