کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 39
بالنقصان في وصف النسائ۔‘‘[1] ’’صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، تابعین عظام اور ان کے بعد آنے والے علمائے سنت کا اس پر اتفاق ہے کہ اعمال ایمان میں سے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ ایمان قول و عمل اور عقیدہ کا نام ہے اطاعت سے بڑھتا ہے اور معصیت کے ساتھ کم ہوتا ہے۔ ایمان کے بڑھنے پر قرآن حکیم ناطق ہے اور عورتوں کے اوصاف کے بیان میں ایمان کے نقصان اور کم ہونے پر حدیث میں بیان وارد ہوا ہے۔‘‘ اور تمام علمائے اہل الحدیث و السنۃ کے ہاں ایمان تین چیزوں پر مشتمل ہے اور اس میں کمی بیشی ہوتی ہے۔ تو کفر بھی تین ذرائع سے ممکن ہے: اول … کفر اعتقادی دوم … کفر قولی سوم … کفر عملی اوّل … کفر اعتقادی: یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ ے سوا کوئی اور بھی شریک ہے یا اس کی برابری کرنے والا یا اس کے حکم سے بہتر کسی اور کا حکم بہتر ہے اس کی کچھ انواع یا صورتیں ہیں جو درج ذیل ہیں: 1 یہ عقیدہ کہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم قابل عمل نہیں اور ان کا مکمل انکار۔ 2 یہ عقیدہ کہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم سے انکار تو نہیں لیکن ان کے علاوہ کسی اور کے حکم کو احسن اور بہتر ماننا یا اللہ اور اس کے رسول کے کلام کی بعض جزئیات کا انکار۔ 3 یہ عقیدہ کہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم سے انکار تو نہیں لیکن ان کے علاوہ کا حکم ان دونوں کے حکم جیسا ہی ہے تو اس میں مخلوق کی خالق سے تشبیہ کا عنصر ملتا ہے۔ 4 یہ عقیدہ کہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے علاوہ کسی اور کے حکم کا جواز ہے۔ 5 یہ عقیدہ کہ تمام معاملات اور تنازعات میں حاکم اور اللہ کی شریعت کے علاوہ ملکی قانون ہے۔ 6 یہ عقیدہ کہ معاملات اور تنازعات میں قرآن و حدیث کو چھوڑ کر اپنے معاشرتی اور خاندانی یا قبائلی رسوم و رواج کو حاکم بنانا۔ [1] ) شرح السنۃ: 1/39-38، ط: المکتب الإسلامي.