کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 37
الکُفْرُ أیضا جحود النعمۃ و ہو ضد الشکر۔‘‘ امام رازی نے اس کو ایمان کی ضد میں درج کیا ہے یعنی جو شخص اللہ کا انکار کرے اور اس کو شکر کے مقابل بھی لکھا ہے یعنی نعمتوں کا انکار کرنے والا۔ علامہ ابو الحسین احمد بن فارس بن زکریا (المتوفی 395ھ) راقم ہیں: ’’و ہو الستر و التغطي و یقال للزراع کافر لأنہ یغطي الحب بتراب الأرض قال اللّٰہ تعالی:  و الکفر ضد الإیمان سمی لأنہ تغطي الحق و کذلک کفران النعم جحودہا و سترہا۔‘‘ ’’کفر کا مطلب چھپانا اور ڈھانپنا ہے اسی لیے کسان کو بھی کافر کہا جاتا ہے کہ وہ دانے کو زمین میں چھپاتا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:  اور یہ لفظ ایمان کی ضد ہے کیونکہ کافر حق کو چھپاتا ہے اسی طرح نعمتوں کا انکار کرنا بھی چھپانے کے مفہوم میں آتا ہے۔‘‘[1] اسی مفہوم میں امام راغب اصفہانی (المتوفی 502ھ) نے اپنی کتاب ’’المفردات فی غریب القرآن‘‘ میں اس کا ذکر کیا ہے۔[2] خلاصۃ القول اس کے مفہوم میں انکار کرنا ہے اور ایمان کے مقابلہ کفر کے یہی معانی بنتے ہیں یعنی دین اسلام کی صداقتوں کا انکار کرنا۔ اس کے علاوہ کفر شکر کے مقابلے میں بھی آیا ہے اس لیے کہ شکر کا مطلب ہے کسی چیز کا ابھر کر سامنے آنا لہٰذا کفران نعمت کے معنی ہیں نعمتوں کو چھپا لینا اور کفارہ کو کفارہ اس لیے کہتے ہیں کہ وہ غلط کام کے ضرر رساں نتیجہ کو ڈھانپ لیتا ہے۔ ایک بات واضح رہے کہ ہر غیر مسلم کافر ہے، سوائے اس شخص کے جس تک اللہ کا پیغام نہیں پہنچا۔ لیکن جس کے سامنے حق کو پیش کیا جائے لیکن وہ تمام دلائل و براہین کے باوجود اسے تسلیم کرنے سے انار کر دے اور پھر لاکھ کوششیں کرو وہ اپنی ضد پر قائم رہے تو اسے کافر کہتے ہیں۔ یعنی حق کے واضح سامنے آنے کے بعد [1] ) معجم مقاییس اللغۃ: 897، ط: راز احیاء التراث العربي بیروت. [2] ) @ المفردات فی غریب القرآن: 436-433، ط ایران.