کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 36
يَقْدِرُونَ مِمَّا كَسَبُوا عَلَى شَيْءٍ ذَلِكَ هُوَ الضَّلَالُ الْبَعِيدُ (ابراہیم: 18) ’’ان لوگوں کی مثال جنھوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا، ان کے اعمال اس راکھ کی طرح ہیں جس پر آندھی والے دن میں ہوا بہت سخت چلی۔ وہ اس میں سے کسی چیز پر قدرت نہ پائیں گے جو انھوں نے کمایا، یہی بہت دور کی گمراہی ہے۔‘‘ معلوم ہوا کہ کفر کی وجہ سے انسان کے اعمال غارت اور برباد چلے جاتے ہیں ان کی حیثیت ایک پرکاہ کی بھی نہیں رہتی، قیامت والے دن وہ راکھ کے اس ڈھیر کی طرح ہوں گے جس پر تند و تیز آندھی چلے تو وہ انہیں اڑا کر لے جائے اور ان کا وبال انہی پر رہ جائے ایمان جیسی قیمتی متاع کا کفر و شرک اور ارتداد سے تحفظ ضروری ہے اور ہمیں ایسے امور کا بھی علم ہونا چاہیے جن کے باعث ایمان کی تباہی بربادی ہوتی ہے تاکہ ہم ان سے اپنے آپ کو بچا سکیں۔ جیسے حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اکثر و بیشتر شر اور فتن کے بارے سوالات کیا کرتے تھے اور باقی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایمانیات اور اعمال کے بارے میں پوچھتے جو جنت میں لے جانے والے ہیں حذیفہ رضی اللہ عنہ شر کے بارے اسی لیے سوال کرتے تھے تاکہ انہیں شر اور فتن کی حقیقت معلوم ہو اور وہ ان سے بچ سکیں۔ اسی فکر کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم آپ کے سامنے اس کتاب میں کفر، اس کے عواقب و نتائج بیان کر رہے ہیں تاکہ ان سے اجتناب کر کے ایمان کا دفاع اور بچائو کیا جا سکے پھر اس کے بعد کچھ اصول و ضوابط ذکر ہوں گے جن کا ایمان کے بچائو میں لحاظ رکھا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایمانیات کو سمجھنے اور ان کے تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور کفر و شرک سے محفوظ رکھے اور مرتے دم تک توحید و سنت پر قائم و دائم رکھے۔ آمین یا رب العالمین۔ کفر کا مفہوم: کفر کے بنیادی معنی چھپانے اور ڈھانپنے کے ہیں۔ الرمانی نے اپنی کتاب ’’الألفاظ المترادفۃ‘‘ میں کفر کو خفی، ستر یعنی چھپانا اور ڈھانپنا کے مترادف لکھا ہے۔[1] علامہ محمد بن ابی بکر بن عبدالقادر الرازی (المتوفی 660ھ) لکھتے ہیں: ’’الکفر ضد الإیمان و قد کفر باللّٰہ من باب نصر و جمع الکافر کُفَّارٌ و کَفَرۃٌ و کِفَارٌ بالکسر مخففا کجائع و یجاع و نائم و نیام و جمع الکافرۃ کَوَافِرُ و [1] ) الالفاظ المترادفۃ للرماني: 276۔