کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 35
جاتا ہے اور اس کی مرمت کر کے اسے دوبارہ پہن لیا جاتا ہے۔ بلکہ ایمان بھی کبھی اعلیٰ درجے کا ہوتا ہے اور کبھی سب سے نچلے درجے پر آ جاتا ہے بلکہ بسا اوقات ایمان رخصت بھی ہو جاتا ہے۔ اس لیے اس کی خبرگیری رکھنا اور تجدید کرتے رہنا ضروری ہے اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے تجدید ایمان کا سوال کرنا بھی سکھلا دیا ہے ہمیں اپنی دنیا کی تمام چیزوں سے بڑھ کر ایمان کا خیال کرنا چاہیے کیونکہ اللہ ایمان کی دولت ہر کسی کو نہیں دیتا، اللہ تعالیٰ صرف اپنے محبوب بندوں کو ایمان سے نوازتا ہے جبکہ دنیا کے مادی وسائل اور اسباب ہر کسی کو دیتا ہے خواہ اس سے محبت کرے یا نہ کرے۔ دین صرف اسے ملتا ہے جس سے اللہ محبت کرتا ہے: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إن اللّٰہ قسم بینکم أخلاقکم کما قسم بینکم أرزاقکم، و إن اللّٰہ یعطي الدنیا من یحب و من لا یحب و لا یعطي الإیمان إلا من یحب۔))[1] ’’بے شک اللہ نے تمہارے درمیان اخلاق تقسیم کیے ہیں جیسا کہ اس نے تمہارے درمیان تمہاری روزیاں تقسیم کی ہیں اور یقینا اللہ تعالیٰ دنیا جس سے محبت کرتا ہے اسے بھی دیتا ہے اور جس سے محبت نہیں کرتا اسے بھی دیتا ہے اور ایمان صرب اسے دیتا ہے جس سے محبت کرتا ہے۔‘‘ لہٰذا ایمان بڑی قیمتی دولت ہے اس کی حفاظت کرنا فرض ہے اور قیامت والے دن نجات کے لیے بنیادی اور اساسی شرط ایمان ہے اس کے بغیر تمام نیک اعمال بھی غارت ہو جاتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: (فَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْيِهِ وَإِنَّا لَهُ كَاتِبُونَ) لأنبیاء: 94) ’’پس جو شخص کوئی نیک اعمال کرے اور وہ مومن ہو تو اس کی کوشش کی کوئی نا قدری نہیں اور یقینا ہم اس کے لیے لکھنے والے ہیں۔‘‘ اس نص قطعی سے معلوم ہوا کہ اللہ کے ہاں صرف وہی عمل درجہ قبولیت پر فائز ہوں گے جو ایمان کے ساتھ اللہ کی رضا کے لیے کیے جائیں گے اور جو عمل ایمان کے بغیر کیے گئے ہوں گے ان اعمال کے بارے میں ایک ارشاد باری تعالیٰ ہے: مَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ أَعْمَالُهُمْ كَرَمَادٍ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّيحُ فِي يَوْمٍ عَاصِفٍ لَا [1] ) المستدرک: 94۔ اسے امام حاکم اور امام ذہبی نے صحیح کہا ہے اور علامہ البانی نے اس حدیث کو السلسلۃ الصحیحۃ (2714) اور غایۃ المرام (19) میں درج کیا ہے۔