کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 33
پہلی فصل: تمہید کتاب و سنت کی رُو سے ایمان تین چیزوں کا مرکب ہے؛ دل سے تصدیق، زبان سے اقرار اور دیگر اعضائے جسمانی کے ساتھ عمل کرنا۔ اگر دل سے تصدیق نہ ہو پھر بھی کوئی شخص دائرہ ایمان میں داخل نہیں ہوتا جیسے یہود کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت تھی ہرقل اور ابو طالب نے آپ کی صداقت و حقانیت کا اظہار بھی کیا اور منافقین میں ظاہری طور پر عمل اور احکام کی پیروی موجود تھی اس کے باوجود یہ لوگ مومن نہ تھے پس تصدیق میں کوتاہی منافق کرتا ہے اور زبان کے اقرار سے پہلو تہی کافر کرتا ہے اور عمل میں کوتاہی کا مرتکب فاسق و فاجر شمار ہوتا ہے۔ مومن بننے کے لیے تین چیزوں کا ہونا حتمی اور لازمی ہے۔ جب کوئی شخص زبان سے اسلام کا کلمہ کہہ لیتا ہے تو وہ دائرہ اسلام میں داخل ہو جاتا ہے، کلمہ پڑھنے کے بعد اسے نماز، روزہ، حج اور زکاۃ کا اہتمام کرنا پڑتا ہے۔ حج اور زکاۃ تو صاحب حیثیت پر فرض ہو جاتے ہیں شریعت نے زکاۃ کا نصاب متعین کر دیا ہے اور اگر بیت اللہ جانے کے لیے زادِ راہ اور سواری کا انتظام ہے تو حج فرض ہو جاتا ہے۔ یہ پانچوں چیزیں اسلام کی بنیاد ہیں جیسا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((بني الإسلام علی خمس شہادۃ أن لا إلٰہ إلا اللّٰہ و أن محمدا رسول اللّٰہ و إقام الصلاۃ و إیتاء الزکاۃ و الحج و صوم رمضان۔))[1] ’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: 1اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، [1] ) صحیح البخاري کتاب الایمان باب دعاء کم ایمانکم، رقم الحدیث: 8۔