کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 293
ضابطہ نمبر13 تکفیر پر اہل سنت والجماعت کا اتفاق ہونا صرف اس کی تکفیر کی جائے گی جس کی تکفیر پر اہل سنت و جماعت اتفاق کر لیں یا اس کے کفر پر کوئی ایسی دلیل اور حجت قائم ہو جائے جس کا کوئی معارض نہ ہو۔ ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’و من جہۃ النظر الصحیح الذي لا مدفع لہ أن کل من ثبت لہ عقد الإسلام في وقت بإجماع من المسلمین ثم أذنب ذنبا أو تأول تأویلا فاختلفوا بعد في خروجہ من الإسلام لم یکن لإختلافہم بعد إجماعہ معنی یوجب حجۃ و لا یخرج من الإسلام المتفق علیہ إلا بإتفاق آخر أو سنۃ ثابتۃ لا معارض لہا۔‘‘[1] ’’صحیح نظر کی رو سے جس کا کوئی مقابل نہیں ہے ہر وہ شخص جس کا عقد اسلام کسی بھی وقت میں مسلمانوں کے اجماع کے ساتھ ثابت ہے پھر وہ کوئی گناہ کر لیتا ہے یا کوئی تاویل کرتا ہے اس کے بعد انہوں نے اس کے اسلام سے خارج ہونے میں اختلاف کیا۔ اس اجماع کے بعد ان کے اختلاف کا کوئی معنی نہیں جو حجت واجب کرتا ہو جس کے اسلام پر اتفاق ہے وہ اسلام سے خارج نہیں ہو گا مگر ایک دوسرے اتفاق کے ساتھ یا ایسی سنت ثابتہ کے ساتھ جس کا کوئی معارض نہیں۔‘‘ اس کے بعد فرماتے ہیں: ’’و قد اتفق أہل السنۃ و الجماعۃ و ہم أہل الفقہ و الأثر علی أن أحدا لا یخرجہ ذنبہ و إن عظم من الإسلام و خالفہم أہل البدع فالواجب في النظر أن لا یکفر إلا من اتفق الجمیع علی تکفیرہ أو قام علی تکفیرہ دلیل لا مدفع لہ من کتاب أو سنۃ۔‘‘[2] [1] ) التمہید لإبن عبدالبر: 17/21۔ فتح المالک بتبویب التمہید لابن عبدالبر علی مؤطا الإمام مالک: 10/428، ط: دار الکتب العلمیۃ۔ [2] ) التمہید لإبن عبدالبر: 17/22۔ فتح المالک: 10/428۔