کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 290
قبل ذلک۔‘‘[1] ’’نفاق سے متہم لوگ ایک ہی نوع کے نہیں تھے بلکہ ان میں محض منافق بھی تھے اور وہ بھی تھے جن میں ایمان اور نفاق تھا اور وہ بھی تھے جن کا ایمان غالب تھا اور ان میں نفاق کا ایک شعبہ بھی تھا اور ان کے گناہوں کی کثرت ایمان کے ظہور کے حساب سے تھی اور جب ایمان مضبوط ہو گیا اور ایمان اور اس کی قوت تبوک والے سال ظاہر ہو گئی تو ان کی نفاق پر وہ سرزنش کی جاتی تھی جو اس سے پہلے نہیں کی جاتی تھی۔‘‘ معتزلہ اور خوارج کسی گمراہی کی اصل وجہ بھی یہی تھی بقول ان لوگوں کے ایمان ایک چیز کا نام ہے اس میں کوئی بھی چیز زائل ہو جائے ایمان مکمل زائل ہو جائے گا اس لیے انہوں نے مرتکب کبائر کے بارے میں فیصلہ دیا کہ اس میں ایمان بالکل ہی ختم ہو گیا ہے اس لیے اس کو جہنم میں ہمیشگی کا مستحق ٹھہراتے ہیں۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((یخرج من النار من کان فی قلبہ مثقال ذرۃ من الإیمان۔))[2] ’’اس شخص کو بھی آخرکار جہنم سے نکال لیا جائے گا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو گا۔‘‘ ثابت ہوا کہ بعض ایمانی شعبہ جات کے زوال سے ایمان زائل نہیں ہو گا، بلکہ وہ اللہ کی مشیت کے تحت ہو گا کہ چاہے معاف کر دے یا سزا دے۔ جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے: (إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ )(النسائ: 48) ’’بے شک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے اور بخش دے گا جو اس کے علاوہ ہے۔‘‘ خلاصۃ القول 1 یہ عقیدہ کا بنیادی حصہ ہے کہ ایمان بڑھتا ہے اور کم ہوتا یعنی جیسے وہ ایمان کے شعبہ جات اور تقاضوں کی تکمیل کرتا ہے ایمان میں اس قدر اضافہ ہوتا ہے اسی طرح ایمان کے شعبہ جات کو چھوڑنے سے ایمان میں کمی واقع ہوتی ہے بعینہٖ کفر کے ساتھ صورت حال ہوتی ہے۔ 2 اللہ تعالیٰ کی رحمت واسع ہے اور توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے۔ [1] ) مجموع الفتاوی لابن تیمیۃ: 7/523۔ [2] ) سنن الترمذي: 2781۔ صحیح البخاري: 22۔ صحیح مسلم: 183-184۔ سنن إبن ماجہ: 60۔ صحیح إبن حبان: 7377۔ مسند أحمد: 11127۔